خطبات محمود (جلد 16) — Page 92
خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۵ء عظیم الشان تغیرات پیدا کر دیں گے۔اسی غرض کے لئے میں نے ایک سکیم پیش کی تھی اس کے مالی حصہ کی طرف تو جماعت نے توجہ کی ہے مگر باقی کے لئے ابھی بہت توجہ کی ضرورت ہے باہر کی جماعتیں باقی حصہ کی طرف بھی توجہ کر رہی ہیں مگر قادیان میں اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔میں محلوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کا انتظام کریں کہ ہر فر د جماعت سال میں ایک ماہ تبلیغ کیلئے وقف کرے اور جلد سے جلد ایسی فہرستیں تیار کر کے میرے سامنے پیش کریں۔خالی روپیہ کی قربانی سے کچھ نہیں بنتا۔اگر دس کروڑ روپیہ بھی جمع کر دیا جائے تو بھی جب تک جانی قربانی کے لئے دوست آمادہ نہ ہوں ترقی محال ہے اور جو شخص بارہ ماہ میں سے ایک ماہ بھی تبلیغ کے لئے نہیں دے سکتا اس سے یہ کیونکر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ جان قربان کر سکتا ہے پس تم اپنے اوقات کو اس طرح صرف کرو کہ زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ کے لئے نکال سکو۔اس کے لئے روزانہ اٹھارہ گھنٹے بھی کام کرنا پڑے تو کرو اور اس سے ہرگز نہ ڈرو کہ اس طرح موت واقع ہو جائے گی کیونکہ خدا کے لئے جو جان جائے وہی حقیقی زندگی ہے۔میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ۱۷، ۱۸ اکتوبر ۱۹۳۴ ء سے لے کر آج تک سوائے چار پانچ راتوں کے میں کبھی ایک بجے سے پہلے نہیں سوسکا اور بعض اوقات تو دو تین چار بجے سوتا ہوں۔بسا اوقات کام کرتے کرتے دماغ معطل ہو جاتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب اسلام کا باطل سے مقابلہ ہے تو میرا فرض ہے کہ اسی راہ میں جان دے دوں اور جس دن ہمارے دوستوں میں یہ بات پیدا ہو جائے وہی دن ہماری کامیابی کا ہو گا۔کام جلدی جلدی کرنے کی عادت پیدا کر و اُٹھو تو جلدی سے اُٹھو، چلو تو پستی سے چلو، کوئی کام کرنا ہو تو جلدی جلدی کرو ، دو گھنٹے کا کام آدھ گھنٹہ میں کرو اور اس طرح جو وقت بچے اسے خدا کی راہ میں صرف کرو۔میرا تجربہ ہے کہ زیادہ تیزی سے کام کیا جا سکتا ہے۔میں نے ایک ایک دن میں سوسو صفحات لکھے ہیں اور اس میں گو بازو شل ہو گئے اور دماغ معطل ہو گیا مگر میں نے کام کو ختم کر لیا اور یہ تصنیف کا کام تھا جو سوچ کر کرنا پڑتا ہے۔دوسرے کام اس سے آسان ہوتے ہیں اسی ہفتہ میں میں نے اندازہ کیا ہے کہ میں نے دو ہزار کے قریب رقعے اور خطوط پڑھے ہیں اور بہتوں پر جواب لکھے ہیں اور روزانہ تین چار گھنٹے ملاقاتوں اور مشوروں میں بھی صرف کرتا رہا ہوں۔پھر کئی خطبات صحیح کئے ہیں اور ایک کتاب کے بھی دو سو صفحات درست کئے ہیں بلکہ اس میں ایک کافی تعداد صفحات کی اپنے