خطبات محمود (جلد 16) — Page 93
خطبات محمود ہاتھ سے لکھی ہے۔۹۳ سال ۱۹۳۵ء پس میں جانتا ہوں کہ اگر سستی نہ کی جائے تو تھوڑے وقت میں بہت سا کام ہو جاتا ہے اس لئے وقت ضائع نہ کرو۔ہمیشہ اپنے نفس سے پوچھتے رہو کہ ہم وقت ضائع تو نہیں کر رہے اور جب فرصت ملے تو اسے باتوں میں گنوانے کی بجائے تبلیغ میں صرف کرو اور پھر ہر شخص کم سے کم ایک ماہ تبلیغ کے لئے وقف کر دے۔کارکن بھی باریاں مقرر کر لیں اور اس طرح ایک ایک ماہ دیں۔صدر انجمن کو چاہئے کہ ان کے لئے انتظام کرے خواہ ان کی جگہ دوسرے آدمی رکھ کر ہی ایسا کرنا پڑے۔اور اگر قادیان کے لوگ اس طرف توجہ کریں تو مجھے تین چار سو مرد مبلغ مل سکتا ہے گویا تین چارسو ماہ کام کرنے کے لئے مل گئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت میں چھپیں تھیں مبلغ مل گئے۔پس قادیان کے مختلف محلوں کو چاہئے کہ جس طرح مالی حصہ سکیم کے متعلق انہوں نے فہرستیں تیار کی تھیں۔اس عملی حصہ سکیم کے متعلق بھی کریں کیونکہ یہ اس سے بہت اہم ہے۔جلسے کر کے ایسے لوگوں کے نام لکھے جائیں جو ایک ایک ماہ دینے کو تیار ہوں اور یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ وہ کس ماہ وقت دینے کو تیار ہیں۔اگر اس طرح کیا جائے تو قادیان کے لوگوں کے ذریعہ سے ہی سارے ضلع گورداسپور میں تبلیغ کی جا سکتی ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں محبت اور اخلاص کا اظہار عملی طور پر کریں گی۔اس سکیم کا عملی حصہ باقی ہے پچھلے خطبہ کے بعد باہر سے کثرت سے درخواستیں آئی ہیں مگر قادیان والوں نے ابھی تک تو جہ نہیں کی سوائے ان کے جنہوں نے کئی کئی سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں باقی ایک ماہ دینے والے ایک دو سے زیادہ نہیں ہیں۔پس محلوں میں ایسا انتظام کیا جائے کہ دوست ایک ایک ماہ دینے کے لئے اپنے نام لکھوائیں اور یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ وہ کب وقت دے سکیں گے بعض یونہی نام لکھوا دیتے ہیں ایسے لوگوں کو جب بلایا گیا تو کسی نے کہہ دیا مجھے فرصت نہیں۔میں نے بھوپال میں زمین لی ہے میرا خیال تھا یہی کام وقف میں شمار کر لیا جائے۔ایسے لوگوں نے سمجھا کہ جس طرح سکیم کے تمدنی حصہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ غرباء بھی ثواب میں شریک ہو سکتے ہیں شاید اس میں نام لکھوانا بھی ایسا ہی ہے پس جو دوست چاہیں یہ لکھوا سکتے ہیں کہ سال میں کوئی ایک مہینہ لے لیا جائے یا فلاں سے فلان مہینہ تک یا پھر کوئی خاص مہینہ معین کر دیں۔اور جولوگ وقت نہ دے سکتے ہوں وہ