خطبات محمود (جلد 16) — Page 840
خطبات محمود ۸۴۰ سال ۱۹۳۵ء کر دے گا۔لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہی اور جس کا نقشہ اُس نے مجھے سمجھا دیا ہے وہ نہ ہو وہ ضرور ہو کر رہے گی خواہ دوست دشمن سب مجھے چھوڑ جائیں۔اس پر بعض دوستوں نے شکوہ کیا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ کیوں کہے ہمیں ان سے تکلیف ہوئی ہے ہم تو آپ پر اپنی جان اور اپنا مال سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ الفاظ اس قابل نہیں تھے کہ اس پر انہیں تکلیف ہوتی بلکہ اس قابل تھے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے دین کے متعلق اسی قسم کے الفاظ کہتے۔یہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے اور خدا تعالیٰ کے معاملہ میں رقابت کی ضرورت ہوتی ہے۔میں تو چاہتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہو جس کے دل میں یہ احساس نہ ہو کہ خواہ ساری دنیا احمدیت کو چھوڑ دے پھر بھی وہ خدا کے سلسلہ کو پھیلا کر رہے گا۔پس یہ صدمہ والی بات نہ تھی بلکہ رقابت والی بات تھی اور تم میں سے ہر شخص کو میری طرح یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر ساری دنیا الگ ہو جائے اور کوئی بھی ہمارے ساتھ نہ رہے پھر بھی احمدیت دنیا کے کناروں تک پھیلا کر چھوڑیں گے کیونکہ یہ خدا کا سلسلہ ہے اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔میں نے اس کے ساتھ ایک مثال بھی دی تھی اور بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے قرب میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔وہ یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ آپ جو کام بھی شروع فرماتے دائیں طرف سے شروع کرتے۔ایک دفعہ آپ مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ کوئی شخص دودھ لایا۔آپ نے تھوڑا سا پی کر چاہا کہ باقی تبرک حضرت ابو بکر گودیں مگر وہ اُس وقت آپ کے بائیں طرف تھے اور دائیں طرف ایک نوجوان بیٹھا تھا۔آپ نے دائیں طرف منہ کر کے اُس نوجوان سے پوچھا کہ میاں ! اگر تم اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر گودے دوں۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ یہ آپ کا حکم ہے یا آپ مجھے اختیار دیتے ہیں کہ میں جو چاہوں کہوں۔آپ نے فرما یا حکم تو نہیں۔وہ کہنے لگا تو پھر ادھر لائیے۔تبرک کے معاملہ ہیں میں کسی کو اپنے آپ پر ترجیح نہیں دے سکتا۔تو خدا تعالیٰ کے معاملہ میں سارے بندے رقیب ہیں ہر بندے کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ دوسرے سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو۔پس میں وہ الفاظ کہہ کر صرف اپنا احساس بیان نہیں کر رہا تھا بلکہ میں چاہتا تھا کہ تم میں سے ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی اشاعت کا وہی ذمہ دار ہے۔اور اگر ایسا احساس تم میں پیدا ہو جائے تو پھر نہ وعظ کی ضرورت ہے نہ لمبے خطبوں کی۔پھر اتنی ہی ضرورت ہوگی کہ میں کھڑا ہو کر