خطبات محمود (جلد 16) — Page 826
خطبات محمود ۸۲۶ سال ۱۹۳۵ء لر سمجھتے ہیں کہ ہماری مذہبی روش اس قابل ہے کہ اسے قائم رکھا جائے کیونکہ ملک کی ترقی کے لئے اس روح کا قائم رہنا ضروری ہے پس وہ پادریوں کا اعزاز کرتے اور انہیں اس قابل سمجھتے ہیں کہ اپنی آنکھوں پر بٹھائیں اور جو کچھ وہ انہیں دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اُس کی وجہ سے ان پر احسان رکھیں وہ اسے اُن کی خدمات کا ادنی معاوضہ سمجھتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں یہ بات نہیں۔میں اپنی جماعت میں بھی دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے پرانے رسم و رواج کے ماتحت جب کوئی ہم میں سے بھی دنیاوی لحاظ سے کچھ عزت حاصل کر لیتا ہے تو وہ سلسلہ کے مبلغین کو ادنی سمجھنے لگ جاتا ہے حالانکہ جو شخص دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے وہ ادنی انہیں بلکہ اعلیٰ ہے بشرطیکہ مبلغ ہر قسم کی کوتا ہی سے اپنے آپ کو بچائے۔میرے نزدیک مبلغوں میں سے بعض ایسے ہو سکتے ہیں بلکہ بعض کمزور مبلغ ایسے ہیں جنہوں نے ظاہر میں دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے مگر درحقیقت وہ دنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہیں۔بعض دفعہ وہ جھوٹا ریل بنا دیں گے بعض دفعہ لوگوں سے مانگ کر چیزیں لے لیں گے مگر ایک یا دو یا اس سے زیادہ کی بُرائی سارے مبلغوں کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔اگر ایک یا دو ایسے مبلغ ہیں جو اس قسم کے ناجائز کام کرنے والے ہیں تو بیسیوں ایسے مبلغ بھی ہیں جنہوں نے حقیقت میں دین کو دنیا پر مقدم کیا اور اپنا دامن ہر قسم کی آلائشوں سے منزہ رکھا۔پس دو چار کے نقائص سب کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔اور اگر ہم کسی مبلغ کے متعلق دیکھیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے یا حرص اور لالچ سے کام لیتا ہے یا بعض جگہ سوالی بن جاتا ہے تو ایسے شخص کی ذلت اُسی کے ساتھ تعلق رکھے گی اور وہ ایک آدمی کی ذلت ہوگی نہ کہ مبلغ کی ذلت۔تم اس قسم کی حرکات دیکھ کر کہہ سکتے ہو کہ فلاں شخص ذلیل ہے، تم اپنے دل میں محسوس کر سکتے ہو کہ فلاں شخص نے ذلیل کام کیا مگر تم یہ نہیں کہ سکتے کہ مبلغ ہونا ذلت کا کام ہے یا تبلیغ نا پسند یدہ چیز ہے۔بہر حال موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ جب ہمارے مبلغ تبلیغ کے لئے جائیں تو بعض لوگ محسوس کریں کہ چونکہ یہ روپیہ لے کر کام کرنے والے ہیں اس لئے انہوں نے ایسی باتیں کہنی ہی ہیں۔لیکن اگر ایک ڈاکٹر تبلیغ کے لئے جاتا ہے یا ایک وکیل تبلیغ کے لئے جاتا ہے یا ایک زمیندار تبلیغ کے لئے جاتا ہے یا ایک سرکاری افسر تبلیغ کے لئے جاتا ہے تو وہ لوگ جو مبلغوں سے باتیں سننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے وہ اُن سے باتیں سن کر دین کی باتیں سمجھ سکیں گے۔اس وجہ سے میں نے تحریک کی