خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 816 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 816

خطبات محمود ۸۱۶ سال ۱۹۳۵ء میں اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس خطرناک موقع پر کس نے رسول کریم ﷺ کی ، کی تھی ؟ اُس وقت بھی ہم نے ہی اُسے بچایا تھا اور اگر آج بھی تم جواب دے دو تو ہم خود اس کی مدد کریں گے۔پس اس بات کو اچھی طرح یا درکھو کہ یہ طریق بالکل غلط ہے کہ نہ کام کیا جائے اور نہ جواب دیا جائے کوئی شریف انسان اس طریق کو اختیار کرنا پسند نہیں کرے گا۔میرے ہاتھ میں تلوار نہیں کہ کوئی کہہ دے میں ڈر گیا تھا اور ڈر کر میں نے اقرار کر لیا تھا۔جب کوئی شخص کا م کر نا نہیں چاہتا تو وہ کہہ دے یا جس حد تک کرنا چاہتا ہے وہ بتا دے مگر جب کوئی شرط نہیں تو پھر کیوں تساہل سے کام لیا جاتا ہے۔بے شک جس کا دل چاہے ہٹ جائے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلہ کی ترقی اور حفاظت کے سامان خود پیدا کر دے گا۔گھبراہٹ اگر ہو سکتی ہے تو مجھے جس پر ذمہ داری ہے مگر میں جانتا ہوں کہ خواہ سارے مجھے چھوڑ جائیں اللہ تعالیٰ خود میری مدد کا سامان پیدا کر دے گا اور مجھے کامیابی عطا کرے گا لیکن بفرض محال اُس نے میرے لئے اس جدو جہد میں موت ہی مقدر کی ہوئی ہے تو میں اس موت کو بُر انہیں سمجھتا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا بھی خواہ بظاہر ناکامی کی شکل میں بہت پیارا ہوتا ہے پس جسے دنیا نا کامی سمجھتی ہے وہ بھی میرے لئے کامیابی ہے اور جو اس کے نزدیک کامیابی ہے وہ بھی میرے لئے کامیابی ہی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَانْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا - الله تعالى نے اپنی طرف سے رسول کے دل پر سکینت نازل کی۔اور جب ظاہری لشکر نا پید تھے اُس نے اس کی مدد ایسے لشکروں کے ذریعہ سے کی جو دنیا کو نہ نظر آتے تھے۔اب بھی دیکھ لو کہ احمدی جماعت جس قدر ستی تبلیغ میں کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کی کسر پوری کر دیتے ہیں۔کئی لوگ بیعت کے لئے آتے ہیں اور پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بیعت کا حکم ہمیں کشف یا رویا میں ہوا تھا۔کئی دفعہ حکم ہو الیکن ہم سستی کرتے رہے آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انذار آیا کہ اگر بیعت نہ کرو گے تو تمہارا خاندان تباہ کر دیا جائیگا اس پر ہم بیعت کے لئے آمادہ ہو گئے۔جس پیرے کا قصہ میں نے سنایا ہے ، اُس کے ایک بھتیجے کوبھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔وہ پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا پھر یکدم نمازیں پڑھنے لگ گیا اور اُس نے بیعت کر لی۔دو چار دن برابر نمازوں میں دیکھ کر حضرت خلیفہ اول نے اُس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ تم با قاعدہ نماز پڑھتے ہو پہلے تو باوجود بار بار کی تاکید کے تم نمازوں سے بھاگتے تھے۔اُس نے