خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 767 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 767

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء مسلمان شاکی ہیں کہ وہ انہیں ملازمت بہت کم دیتی ہے اور میں مانتا ہوں کہ گورنمنٹ کے بعض افسر ہندوؤں کے اثر کے نیچے ہوتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے حقوق کو ملازمتوں کے سلسلہ میں پامال کر دیتے ہیں۔ہندوؤں سے مسلمان شاکی ہیں کہ وہ ان کی تجارت کو بڑھنے نہیں دیتے اور میں خود بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہندوؤں کی طرف سے ایسی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں جو مسلمانوں کی تجارتی ترقی میں روک ثابت ہوتی ہیں اور ہند و پسند نہیں کرتے کہ مسلمان تجارت میں حصہ لیں۔یہ امر بھی بالکل درست ہے کہ زمیندار ہندو ساہوکاروں کے قبضہ میں ہیں۔گوسا ہو کا رصرف ہندو ہی نہیں مسلمان اور پارسی بھی ہیں۔اور ہندو ساہوکاروں کے ظلم ہند وقوم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے لیکن بہر حال عام طور پر ہندو ہی ساہوکار ہوتے ہیں۔کچھ مسلمان ساہو کا ر بھی ہیں اور کچھ پارسی بھی لیکن کثرت ہندو ساہوکاروں کی ہے۔اور نہ صرف مسلمان بلکہ دوسرے زمیندار بھی شاکی ہیں کہ انہوں نے زمینداروں کا خون چوس لیا ہے۔مگر میں اس امر کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ یہی تین باتیں مسلمانوں کی کمزوری کا باعث ہیں۔بلکہ باوجود ان تینوں باتوں کے مسلمان ترقی کر سکتے تھے۔اگر استقلال اور قربانی کا مادہ ان میں ہوتا بلکہ اگر صرف یہی بات ان میں ہوتی کہ استقلال سے وہ کام کرنے کے عادی ہوتے ، تب بھی وہ کامیاب ہو سکتے تھے کیونکہ قربانی کا مادہ ابھی ان میں پایا جاتا ہے گو عارضی ہی ہوتا ہے۔چنانچہ شہید گنج کے موقع پر جس رنگ میں مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور جس طریق پر انہوں نے سخت اشتعال کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھا وہ واقعات سن کر معلوم ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑی اہر جذبات کی مسلمانوں میں موجود ہے۔لیکن نقص یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ اُٹھتی اور پھر بیٹھ جاتی ہے۔اگر مسلمانوں میں استقلال ہوتا اور جس ارادہ کو لے کر وہ ایک دفعہ کھڑے ہوتے اُس پر قائم رہتے تو باوجود اس کے کہ بعض انگریز ملازمتیں دینے کے سلسلہ میں ہندوؤں کے زیر اثر ہیں ، اور باوجود اس کے کہ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کی تجارت میں روکیں ڈالی جاتی ہیں ، اور باوجود اس کے کہ مسلمان زمینداروں کی گردنیں ہندو ساہوکاروں کے ہاتھ میں ہیں پھر بھی وہ ان تمام روکوں کو توڑ کر نکل جاتے۔اور ترقیات میں دوسری قوموں سے پیچھے نہ رہتے۔ہماری جماعت میں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نظام پایا جاتا ہے اور اس کے ماتحت جماعت کے افراد بعض حالات میں تسلسل سے کام کرتے رہتے ہیں ، اس کے نیک نتائج کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ