خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 766 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 766

خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۳۵ء آل انڈیا فیشنل لیگ کے والینٹینرز کو اہم ہدایات (فرموده ۶ /دسمبر ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : سب سے پہلے تو میں نیشنل لیگ کی جو و الیسنسٹیسٹر زکور ہے اس کے متعلق کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں۔درحقیقت یہ کور اُس احمدیہ کور کی ایک نئی شکل ہے جو پانچ سات سال ہوئے میری تحریک پر جماعت میں قائم کی گئی تھی۔میں نے اُس وقت بیان کیا تھا کہ احمد یہ کور کی بڑی غرض خدمت خلق اور اصلاح اخلاق ہو گی۔میں نے جہاں تک اپنے ملک کے اخلاق پر غور کیا ہے خصوصاً مسلمانوں کے اخلاق پر ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے اندر استقلال کا مادہ بالکل نہیں۔کوئی کام بھی وہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں کر سکتے۔اور وہ استقلال اور ایثار جو کامیابی کے لئے ضروری ہے مسلمانوں کے کاموں میں نہیں ملتا۔اس کی بنیاد زیادہ تر نوجوانی میں پڑتی ہے ماں باپ اپنے بچوں سے ایسی غلط طور پر محبت کرتے ہیں یا مجھے کہنا چاہئے کہ وہ ان سے ایسی دشمنی کرتے ہیں کہ کبھی بھی بچوں کی اصلاح کو ان کے عارضی آرام سے مقدم نہیں سمجھتے۔ہندوستانیوں سے یا مجھے یہ کہنا چاہئے کہ جن جن مسلمانوں سے مجھے ملنے اور ان کے حالات کو دیکھنے کا موقع ملا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ سوائے شاذ و نادر کے سو فیصدی ایسے ماں باپ ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کے دشمن ہوتے ہیں۔یعنی وہ ان کی آئندہ ترقی کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ ان کا عارضی اور وقتی آرام مقدم سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان با وجود اس طبعی ذہانت کے جو اسلام کی وجہ سے انہیں حاصل ہے ہر میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہیں۔گورنمنٹ سے