خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 729 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 729

خطبات محمود ۷۲۹ سال ۱۹۳۵ء محفوظ رکھا جائے جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ قادیان غیروں کی شورش سے محفوظ رکھا جائے۔اور ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں کہ دوسری قومیں جن شہروں کو اپنے مذہبی مرکز قرار دیتی اور ان میں انہوں نے خاص ماحول بنا لیا اور ان کی مذہبی کتب میں ان کو خاص مرکزی درجہ دیا گیا ہو، ان شہروں میں ان مذاہب کے خلاف کوئی مظاہرہ کرنے کی نہ ہمیں نہ دوسروں کو اجازت ہو۔پس ہم وہ مطالبہ کرتے ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے متعلق اسلام نے اصل مقرر کیا ہے۔اور جو ہر مذہب کے مقدس مقام کے متعلق اسلام کا پیش کردہ نظریہ ہے۔اس کے مطابق اگر کسی وقت ہندو یہ مطالبہ کریں کہ ہر دور میں ہندو مذہب کے خلاف کوئی مظاہرہ نہ کریں تو سب سے پہلا میں ہوں گا جو اس کی تائید کروں گا۔پس اگر کوئی قوم کسی شہر کو اپنا مذ ہبی مرکز سمجھتی ہے یا اسے مذہبی مرکز بنانا چاہتی ہے تو اسے اجازت ہونی چاہئے کہ وہ غیروں سے اسے پاک رکھے آخر دنیا کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔اگر دنیا کے تمام مقدس مقامات اکٹھے بھی کئے جائیں تو سو پچاس شہروں سے زیادہ نہیں بنیں گے۔مگر ان پچاس یا سو مقامات کو محفوظ کر لینے سے تبلیغ کو کونسا نقصان پہنچ سکتا ہے انسان اردگرد کے علاقوں میں تبلیغ کر سکتا ہے جہاں اس شہر کے آدمی آتے جاتے ہوں۔چنانچہ قادیان کے احمدی بھی کبھی بٹالہ میں سودا خرید نے چلے جاتے ہیں، کبھی امرتسر جاتے ہیں، کبھی لاہور جاتے ہیں احرار تبلیغ ہی کرنا چاہتے ہیں تو جب قادیان کے احمدی بٹالہ، امرت سر یا لاہور جائیں تو انہیں پکڑ لیں اور تبلیغ کریں بلکہ ہم تو موجودہ حالات میں جب کہ انگریزی حکومت قائم ہے یہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتے کہ احمدیوں کے علا و ہ دوسرے لوگ قادیان میں ہماری اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں۔ہم اس وقت جو کچھ چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ قادیان میں دوسرے لوگ داخل ہو کر ایسے مظاہرات نہ کریں جن سے سلسلہ احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ کی ہتک ہوتی ہو۔اور یہ بھی اس لئے کہ مظاہرہ کرنا کوئی مذہبی چیز نہیں بلکہ سیاسی ہے۔اور کسی جماعت کے مذہبی مرکز پر سیاسی دباؤ ڈالنا کسی صورت میں جائز نہیں ہو سکتا۔مگر اب احرار نے یہ مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ اگر ہمیں روکا گیا ہے تو قادیان میں احمدیوں کے سالانہ اجتماع کو بھی روک دیا جائے۔ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ اگر یہ اعلان کر دیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم ﷺ کا بروز ، آپ کا نائب اور خلیفہ مانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور انہوں نے قرآن کریم کے جو معانی بتائے وہی صحیح اور درست ہیں