خطبات محمود (جلد 16) — Page 690
خطبات محمود ۶۹۰ سال ۱۹۳۵ء میں چین سے بیٹھے رہیں۔آخر یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں آپ کی روح ان مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھ کر کس قدر بیتاب ہوتی ہوگی اور کس قدر رنج اور کرب محسوس کرتی ہوگی۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ الہام ہوا۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کاخر کنند دعوای پیمبرم یعنی اے دل! تو ان لوگوں کے احساسات کا بھی خیال رکھا کر کیونکہ آخر یہ لوگ میرے نبی کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔یہ الہام ہے جس کے ماتحت غیر احمدیوں کے اخلاق کی درستی اور ان کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے پیدا کرنے والے خدا کی طرف سے ہم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ ہم قرآن اور اسلام کو پھر مسلمانوں میں قائم کریں۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ فرض پورا ہو گیا؟ میں نے بتایا ہے کہ گالیاں ہمیں اُسی طرح مل رہی ہیں جس طرح پہلے ملا کرتی تھیں۔سابقہ حالات کے عود کرنے کے جو سامان ہیں وہ بھی اسی طرح قائم ہیں۔مسلمانوں کی طبیعت پر مولوی غالب آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے۔کبھی حکومت کے خلاف انہیں اکسا دیتے ہیں، کبھی ہندوؤں کے خلاف اکسا دیتے ہیں، کبھی سکھوں اور عیسائیوں کے خلاف اکسا دیتے ہیں اور ایک غلط راستہ پر برابر چلے جا رہے ہیں۔اب تیسرا فرض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اور جو سب سے مقدم ہے یعنی قرآن شریف اور اسلام کو نہ صرف دنیا میں قائم کرنا بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت بٹھانا ، یہ فرض بھی ابھی ادا نہیں ہوا اس ایک سال کے عرصہ میں بے شک ہماری جماعت نے قربانیاں کیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان قربانیوں میں اتنی معتد بہ زیادتی ہو چکی ہے کہ ان کی وجہ سے دنیا کی توجہ کو ہم نے اپنی طرف کھینچ لیا ؟ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں آدمی ہر سال ہمارے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے مگر آٹھ کروڑ کے مقابلہ میں ہزاروں آدمی حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔اور چالیس کروڑ دنیا کے مسلمانوں کے مقابلہ میں تو چند ہزار کی حیثیت ہی کوئی نہیں۔اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ہماری جماعت میں ہر سال دس ہزار آدمی داخل ہوتے ہیں تو ایک سو سال میں ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ بنتی ہے اور ایک ہزار سال میں ایک کروڑ بنتی ہے۔مگر کیا اس