خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 689

خطبات محمود ۶۸۹ سال ۱۹۳۵ء جاتی تو ہر فریق دوسرے سے پہلے معافی لینے کیلئے بھاگتا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کا ایک دفعہ کسی بات میں جھگڑا ہو گیا۔حضرت عمرؓ دوڑے دوڑے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور جا کر کہا مجھ سے آج سخت غلطی ہوئی حضرت ابو بکر کی میں بے ادبی کر بیٹھا حضور ! میرا قصور معاف کرا دیں۔ادھر حضرت ابو بکر جلدی جلدی رسول کریم ﷺ کے حضور پہنچے تا آپ انہیں حضرت عمر سے معافی دلوا دیں۔جب حضرت ابو بکر رسول کریم ﷺ کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمرؓ اس سے پہلے پہنچ چکے تھے اور واقعہ عرض کر چکے تھے۔رسول کریم ﷺ کو اسے سن کر سخت تکلیف ہوئی کہ کیوں حضرت ابو بکڑ سے وہ جھگڑے اور آپ نے ناراضگی سے کہنا شروع کیا کہ کیوں تم لوگ اُسے ستاتے ہو جو اُس وقت مجھ پر ایمان لایا جب دوسرے لوگ اسلام کو رڈ کر رہے تھے ؟ جب رسول کریم ﷺ اس طرح اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمارہے تھے حضرت ابو بکڑ بھی وہاں آپہنچے اور بجائے اس امر پر خوش ہونے کے فور دوزانو ہو کر بیٹھ گئے اور عاجزانہ طور پر عرض کرنے لگ گئے کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! عمر کا قصور نہیں ،غلطی میری تھی۔یہ وہ اخلاق ہیں جو رسول کریم ﷺ نے پیدا کئے اور یہ وہ اخلاق ہیں جو تو ارث کے طور پر مسلمانوں میں چلتے رہے یہاں تک کہ ان میں بداعمالیوں کی کثرت ہوگئی اور ہوتے ہوتے اسلامی اخلاق ان میں سے بالکل مٹ گئے۔پہلے لوگوں کو تو ہم فخر کے ساتھ دوسری قوموں کے سامنے پیش کر سکتے اور ان سے کہہ سکتے تھے کہ یہ ہیں جو اسلامی اخلاق کا نمونہ ہیں۔مگر کیا آج کے مسلمانوں کو بھی ہم دوسری قوموں کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ اُمت ہے جو رسول کریم ﷺ نے تیار کی ؟ اگر نہیں تو اس لئے کہ ان کا رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونا آپ کی ہتک ہے۔پھر میں پوچھتا ہوں کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس ہتک کو دور کریں جو رسول کریم کی دنیا میں ہورہی ہے؟ اور کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس دھبہ کو آپ پر سے ہٹائیں ؟ پس جب تک مسلمانوں کی حالت کو اس رنگ میں نہ بدل دو کہ انہیں کھیل نہ بنایا جا سکے ، نہ انہیں اسلام کی تعلیم سے پھرایا جا سکے ، نہ انہیں بغاوت پر آمادہ کیا جا سکے ، نہ آپس میں لڑوایا جا سکے ، اور نہ اخلاق سے عاری اور بے بہرہ کر کے گندی گالیاں دینے پر آمادہ کیا جا سکے ، اُس وقت تک تمہارا فرض ہے کہ مسلمانوں کی درستی کی کوشش کرتے چلے جاؤ اور دم نہ لو جب تک کہ ان کی اصلاح نہ ہو جائے۔کس طرح ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کی ایسی گندی حالت ہو اور ہم گھروں