خطبات محمود (جلد 16) — Page 688
خطبات محمود ۶۸۸ سال ۱۹۳۵ء کیوں ضبط کیا گیا ہے تو وہ کوئی حوالہ نہ دکھا سکے۔اور کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سکھ قوم کو سکھایا ایسے ہی رنگ میں مخاطب کیا گیا ہے۔مگر یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق چوری سینہ زوری۔فریبی ، روپیہ کھانے والا اور نبوت سے تمسخر کرنے والے کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں مگر گورنمنٹ کا کوئی قانون حرکت نہیں کرتا۔اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف یہی کہ جن کے متعلق سکھا کہا گیا ہے ان کے متعلق گورنمنٹ سمجھتی ہے کہ وہ اس معمولی سے لفظ پر کر پانیں باہر نکال لیں گے مگر احمد یوں کے متعلق اس کا یقین ہے کہ ان کا امام انہیں صبر کی تلقین کرے گا وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جائیں گے لیکن حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کریں گے۔دوسری بات جس کو بدلنا ہمارے لیے ضروری ہے یہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت گرتے گرتے اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب جو بھی اُٹھتا ہے انہیں اپنے پیچھے لگا لیتا ہے۔کوئی غریب مسلمانوں کا مال لوٹنے لگ جاتا ہے کوئی انہیں جوش دلا کر اُن کی جانیں ضائع کرا دیتا ہے اور کوئی ان کی عزت برباد کرا دیتا ہے۔یہ حالت بھی ایسی ہے جو بدلنے کے قابل ہے۔کیونکہ اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے۔جب ان مسلمانوں کو دوسری قومیں دیکھتی ہیں تو وہ ان کی حالت سے اسلام کا اندازہ لگاتی ہیں۔وہ صحابہ، وہ تابعین ، وہ تبع تابعین جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی تعلیم پر عمل کر کے اس کے اعلیٰ نمونے دنیا کو دکھائے اب دنیا سے اُٹھ چکے ہیں۔پھر اب وہ اخلاق کے نمونے جیسے حضرت علی وغیرہ نے دکھائے تھے کون پیش کرے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت آتا ہے کہ اسلام کا ایک دشمن جو بہت بڑا طاقتور تھا یہودیوں کا بہت بڑا سپا ہی تھا اور بہت سے مسلمانوں کو شہید کر چکا تھا حضرت علیؓ کے مقابلہ میں آیا اور بڑی کوشش اور زور کے بعد آخر حضرت علیؓ نے اسے گرا لیا۔جب آپ اُس کے سینہ پر چڑھ کر اُس کی گردن اُتارنے لگے تو اُس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا حضرت علی فوراً اُسے چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔وہ حیران ہوا اور اُس نے کہا تم نے اتنا زور لگا کر مجھے گرایا تھا اب ایک دم کھڑے کیوں ہو گئے ؟ آپ نے فرمایا میں جو تجھ سے لڑ رہا تھا تو صرف خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر لڑ رہا تھا مگر جب تو نے میرے منہ پر تھوک دیا تو میں نے کہا ایسا نہ ہو اب میرا تجھے قتل کرنا اپنے نفس کا بدلہ لینے کیلئے ا ہو پس میں علیحدہ ہو گیا تا خدا تعالیٰ کی خدمت اور اپنے نفس کے غصہ کو آپس میں ملا نہ دوں۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق ہیں جو صحابہ نے دکھائے۔اس کا یہ نتیجہ تھا کہ اگر معمولی سی بات پر بھی ان میں لڑائی ہو