خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 668

خطبات محمود ۶۶۸ سال ۱۹۳۵ء کے کہ احرار اپنے صدر کی تقریر کے بعد ساری رات جاگتے رہے اور پولیس کا انتظار کرتے رہے پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لئے نہ آئی۔بہر حال گورنمنٹ کو یہ معلوم ہو گیا کہ احمدی جماعت تو اپنے اصول پر قائم رہنے والی ہے لیکن احرار نہیں۔نہ انکی مخالفت اصول کی بناء پر ہے نہ دوستی۔جن چیزوں کی وجہ سے احراراب ڈر گئے ہیں وہ بھلا چیز ہی کیا ہیں۔ہم نے اس سے بہت زیادہ خطرات دیکھے اور کانگریس موومنٹ کے مقابلہ کے وقت ، پھر خلافت کے زمانہ میں ، پھر بائیکاٹ کی تحریک ، اور پھر عدم تعاون کی تحریک کے وقت ہمارے آدمیوں کو مارا گیا، پیٹا گیا، سزائیں دی گئیں ، وطن سے بے وطن کیا گیا ، غرض سب کچھ کہا گیا ،مگر ہمارے آدمیوں نے اپنا قدم پیچھے نہ ہٹایا بلکہ اپنے اصول پر قائم رہے۔لیکن احرار ہیں کہ ایک ہی دھمکی سے ان کا خون خشک ہو گیا۔انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ ہمارے مخالف ہو گئے ہیں تو کہہ دیا یہ شیطانی حکومت ہے ، بُرے افسر ہیں مسلمانوں کا انہیں کوئی خیال نہیں اور اس قسم کی تقریر کر کے پولیس کا انتظار کرنے بیٹھ گئے۔گویا یہ ایک قسم کا ناٹک تھا جو کھیلا گیا غرض اللہ تعالیٰ نے گورنمنٹ کو بھی سبق دے دیا ہے اور احرار کو بھی سبق دے دیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جس غرض کے لئے ہماری تشویش تھی وہ پوری ہوگئی۔تین باتیں ہیں جنہیں ہمیں مدنظر رکھنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ ہمیں حاصل ہو گئیں۔اول یہ کہ باوجود ان نئے حالات کے پیدا ہو جانے کے کیا ہماری جماعت کی حقیقی شکایت دور ہو دوسرے یہ کہ کیا ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ اب دوبارہ شورش نہ ہو اور اگر ایک دفعہ سکون ہے تو کیا یہ سکون مستقل ہے یا آئندہ بھی اس فتنہ کے پھوٹنے کا اندیشہ ہے۔تیسرے یہ کہ کیا جماعت کا مقصد و مدعا پورا ہو گیا۔یہ تین سوال ہیں جن کا جواب اگر ہمیں اپنی منشاء کے مطابق مل جائے تو ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ اب ہمیں مقابلہ کے لئے مزید تیاری کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ہو تو حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں پچھلے سال ہمارا قدم تھا ہم اس وقت بھی وہیں ٹھہرے ہیں اور اس سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکے۔پہلی بات یہ ہے کہ کیا ہماری جماعت کی شکایتیں دور ہو گئیں ؟ اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ