خطبات محمود (جلد 16) — Page 666
خطبات محمود ۶۶۶ سال ۱۹۳۵ء کہ کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ ایک دوسری جگہ جا کر شورش اور فتنہ انگیزی کرے۔احرار کو قادیان اور اُس کے اردگرد آٹھ آٹھ میل کے حلقہ میں کا نفرنس منعقد کرنے سے روکا ہوا ہے اور جب گورنمنٹ نے انہیں روکا ہوا ہے تو ہم اس کے ایک اچھے فعل کو اپنے کسی فعل سے خراب کرنا نہیں چاہتے۔لیکن جیسا کہ احرار کی عادت ہے وہ یہی کوشش کریں گے کہ مباہلہ کا نام لیتے جائیں اور اس بہانہ سے قادیان آ کر شورش اور فساد کریں۔اس لئے نیشنل لیگ نے جو اعلان کیا ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔تمام احمدیوں کو چاہئے کہ اگر انہیں معلوم ہو کہ قادیان میں احرار کا اس قسم کا کوئی اجتماع یا جلسہ ہونے والا ہے تو وہ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر قادیان پہنچ جائیں۔گزشتہ سال جب یہاں احرار کا نفرنس ہوئی تو گورنمنٹ کے مقامی افسروں نے ہم سے یہ وعدہ لیا کہ ان کے جلسہ میں ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا اور اس وعدہ کے مطابق احمدی وہاں نہ گئے۔لیکن بعد میں جب احرار نے یہ شور مچایا کہ احمدی بھاگ گئے اور مقابل پر نہ آئے اور حکومت کو تو جہ دلائی گئی تو وہی حکومت جس نے شہید گنج کے بارہ میں چوہدری افضل حق صاحب پر الزام لگنے پر فوراً اس کی تردید کی تھی ہم پر جو الزام لگایا گیا اس کی تردید نہ کی۔بلکہ ایک افسر نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز نہیں روکا تھا۔پس اس دفعہ اگر احرار قادیان میں کانفرنس کرنے میں کامیاب ہوں تو کا رکنان سلسلہ کو، احمد یہ جماعت کو ان کی کانفرنس میں شامل ہونے سے نہیں روکنا چاہئے۔اگر افسر خواہش کریں تو ان سے تحریر لے لینی چاہئے اور اگر احرار جلسہ میں احمدی جماعت کو چیلنج دیں تو اس چیلنج کو ضرور قبول کر لینا چاہئے۔اگر احراری چاہیں کہ ان کی تقریروں میں کوئی نہ بولے تو وہ چیلنج دینے سے احتراز کریں۔غرض جب تک حکومت تحریر اُنہ رو کے اُس وقت تک رُکنے کی کوئی وجہ نہیں۔آخر ہمارے جلسوں میں بھی تو سینکڑوں غیر احمدی آتے ہیں۔ہم ان سے خاطر مدارات سے پیش آتے ہیں اور وہ بھی خوش خلقی سے ہمارے ساتھ ملتے ہیں۔اسی طرح اگر احرار اچھا نمونہ دکھا ئیں گے تو ان سے ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہ ہوگی۔لیکن اگر وہ حکومت کا حکم توڑیں اور حکومت ان کو کچھ نہ کہے اور پھر وہ ہماری مقدس ہستیوں کو گالیاں دیں اور ہمیں چیلنج بھی دیں تو اس چیلنج کی موجودگی میں ہمارے آدمیوں کو بولنے کا پورا حق ہوگا۔بہر حال چونکہ معلوم نہیں کہ گورنمنٹ کا رویہ اس بارے میں کیا ہو گا اس لئے ہماری جماعت کے آدمیوں کو یہاں آنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ہاں اگر گورنمنٹ اپنے اوپر ذمہ داری