خطبات محمود (جلد 16) — Page 625
خطبات محمود ۶۲۵ سال ۱۹۳۵ء سے سمجھا سکتا ہے کہ گالیاں نہیں دینی چاہئیں۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ بچے گالیاں دیتے ہیں اور نہایت گندی گالیاں دیتے ہیں لوگ پاس سے گزر جاتے ہیں اور انہیں منع نہیں کرتے۔انہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ یہ گالیاں نہیں بلکہ زہر ہے جو یہ کھا رہے ہیں اس سے ان کو روکنا چاہئے۔یہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی ہے جو کی جاسکتی ہے مگر لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر کوئی شخص راستہ سے کانٹا ہٹا دے تو اسے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملتا ہے ، کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک کنکریا کانٹے کا راستہ سے ہٹا دینا تو ثواب کا موجب ہے لیکن اگر کوئی بچہ گالیاں دے کر زہر کھا رہا ہو اور تم اسے روکو تو تمہارے لئے کوئی ثواب نہیں۔یا تم اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھتے ہو کہ تمہیں ثواب کی ضرورت ہی نہیں۔صحابہ کو تو اس قسم کی باتوں کا اتنا شوق تھا کہ ایک دفعہ جب ایک صلى الله صحابی نے دوسروں کو بتایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص میت کا جنازہ پڑھے، اُسے کندھا دے اور پھر اُس کے دفن ہونے تک قبر پر ٹھہرا رہے تو اُسے اُحد کے برابر ثواب ملتا ہے۔تو بعض صحابہ کہنے لگے تم نے یہ بات ہمیں پہلے کیوں نہ بتائی۔نہ معلوم عدم علم کی وجہ سے اب تک ہم نے کتنے ثواب کے اُحد ضائع کر دیئے۔اسی طرح تم بھی اپنے آپ کو خاموش رکھتے ہو۔اور دوسروں کو بدی سے نہیں روکتے۔پس کیا معلوم کہ تم نے بھی ہزاروں نہیں لاکھوں اور کروڑوں اُحد ضائع کر دیئے ہوں۔پس جب کسی بچے کو گالیاں دیتے سنو تو تمہارا فرض ہے کہ اسے منع کر ونگر لڑ کر نہیں بلکہ محبت اور پیار کے ساتھ۔پھر اپنے بچوں کو نمازوں کا پابند بناؤ اور ان سے کام لو۔کام کرنے سے کبھی صحت خراب نہیں ہوتی بلکہ بریکار بیٹھنے سے صحت خراب ہوتی ہے۔بیشک شاذ کے طور پر ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جنہیں کام کی زیادتی کی وجہ سے سل اور دق ہو گئی مگر کثرت سے دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ آوارگی کی وجہ سے نو جوانوں کو سل یا دق ہوئی۔وہ بیکاری اور آوارگی کی وجہ سے ایسی عمر میں شہوانی باتوں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔جس عمر میں شہوانی باتوں کی طرف توجہ کرنا زہر ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دماغ کمزور ہو جاتے ہیں ، دل کمزور ہو جاتے ہیں ، پھیپھڑے کمزور ہو جاتے ہیں اور پھر بعض پاگل ہو جاتے اور بعض سل یا دق کا شکار ہو جاتے ہیں۔تم کسی سکول میں چلے جاؤ تمہیں نظر آئے گا کہ زیادہ پڑھنے کے نتیجہ میں رسل دِق سے بیمار رہ کر مرنے والے تھوڑے ہیں لیکن آوارہ