خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 58

خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۵ء لئے کوئی ایسی بات پسند نہیں کرتا جو اسے مستقل بنا دے اور اسی وجہ سے میں اب تک اس بات سے ڑکتا رہا ہوں اور اب بھی دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ سیاسی امور میں دخل دیتے ہوئے پہلے دیانت کو مدنظر رکھیں۔دوسرے اس امر کو کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو حکومت کے اور ہمارے یا ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ایسی خلیج منافرت پیدا کر دے جو بھری نہ جاسکے۔پس وہ جماعتیں جو قانون کی حدود کے اندر سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہیں وہ الگ انجمنیں بنائیں۔یہ دیانت کا تقاضا ہے کیونکہ ہماری موجودہ انجمنیں خالص مذہبی ہیں اور دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ سیاسی امور جوش پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے کبھی بھی جوش کے ماتحت وہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جسے دوسرے وقت میں جائز نہ سمجھتے ہوں اور مجھے امید ہے کہ اس قدر لمبی ٹریننگ اور وعظ ونصیحت کے بعد وہ ضرور ایسے رنگ میں کام کریں گے کہ مسلمانوں کے ساتھ یا انگریزوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے کوئی تصادم نہ ہو جائے۔اس کے علاوہ شریعت ، قانون ، اخلاق اور دیانت کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے۔باقی میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ حقوق ہمیشہ قانون کو توڑنے سے ہی مل سکتے ہیں۔میں نے کشمیر کا کام کیا ہے اور اپنے تجربہ کی بناء پر کہ سکتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے۔کشمیر کے لیڈر میرے پاس آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری سمجھ میں ہی یہ بات نہیں آتی کہ قانون توڑے بغیر کس طرح ہم کامیاب ہو سکتے ہیں مگر میں نے انہیں ہمیشہ یہی کہا ہے قانون کے اندر رہتے ہوئے میں انشاء اللہ آپ لوگوں کے حقوق دلوا دوں گا پس اس بارہ میں میں تجربہ کار ہوں۔میں نے جس وقت تک کشمیر کا کام کیا ہے ، اس وقت تک کے نتائج ظاہر ہیں اور جس وقت سے میں علیحدہ ہوا ہوں اور کام دوسروں کے ہاتھ میں گیا، اس وقت کا کام بھی سب کے سامنے ہے۔میں نے سارے ریکارڈ خود جا کر ان لوگوں کو دیئے حالانکہ مسلمان انجمنوں کا گزشتہ تجربہ بتاتا ہے کہ جن حالات میں ہم الگ ہوئے تھے ، اس قسم کے حالات میں کوئی سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ریکارڈ نہیں دیا کرتا اور یہ خدا کا فضل ہے کہ ایک پیسہ کے متعلق بھی کوئی اعتراض وہ ہم پر نہیں کر سکتے۔وہ شدید مخالفین جو آج ہمیں گالیاں دے رہے ہیں ، ان میں سے بعض تحریک کشمیر میں میرے ساتھ کام کر چکے ہیں مگر کسی کو جرات نہیں کہ میرے کام کے متعلق ایک لفظ بھی کہہ سکیں یا مجھ پر کوئی اعتراض کرسکیں۔غرضیکہ کشمیر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قانون شکنی کئے بغیر کامیابی عطا کی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ