خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 59

خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۵ء حکومت کشمیر کی طرف سے ایک دفعہ حکومتِ پنجاب سے میرے متعلق شکایت کی گئی کہ میں وہاں شورش کرا تا ہوں۔حکومت پنجاب نے اس کا ثبوت مانگا تو کشمیر سے ایک خاص افسر کا غذات لے کر آیا اور بعض خطوط پیش کئے ان میں سے صرف ایک خط میرا تھا مگر اس میں یہ لکھا تھا کہ آپ لوگ شورش سے بچتے رہیں اس پر وہ نادم ہو گیا اور کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے قانون شکنی کی انہیں تعلیم دی ہو۔میرا یقین ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔قانون شکنی کی طرف ہمیشہ کم ہمت لوگ مائل ہوا کرتے ہیں مگر ہم اپنے اندر صبر اور جرات کی طاقت رکھتے ہیں اس لئے ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔یاد رکھو کہ قانون جب ایک دفعہ ٹوٹا تو پھر اسے قائم نہیں کیا جا سکتا۔میں قانون شکنی سے انگریزوں کی خاطر نہیں روکتا بلکہ اپنے فائدے کے لئے اس سے منع کرتا ہوں تا ہمارے اخلاق نہ بگڑ جائیں بلکہ اگر انگریز اس کی اجازت دے دیں تو بھی ہم ایسا نہیں کریں گے۔جب یہ عادت پیدا ہو جائے تو خواہ کوئی حکومت ہو یہ قائم رہے گی اور اگر انگریز چلے جائیں تو بھی کوئی حکومت نہیں چل سکے گی اور میں نے جہاں تک غور کیا ہے ، قانون شکنی کے بغیر بھی سب کام ہو سکتے ہیں۔حکومت کی بنیاد ڈیموکریسی پر ہے اس لئے اگر اس کی غلطیاں واضح کی جائیں ، انہیں دنیا کے سامنے پھیلایا جائے اور اپنی مشکلات بیان کی جائیں تو یہ بات بغیر اثر کئے نہیں رہ سکتی۔یادرکھو نیکی اور سچائی کی ہمیشہ فتح ہوا کرتی ہے۔اگر حکومت بار بار کے مطالبات پر بھی توجہ نہ کرے تو اس کی غلطیوں کو کھولو، حکام کی زیادتیاں حکومت پنجاب تک پہنچاؤ ، اگر وہ بھی نہ سنے تو حکومت ہند تک پہنچا ؤ، اگر وہ بھی توجہ نہ کرے تو حکومت برطانیہ تک پہنچاؤ ، وہ بھی نہ سنے تو برطانوی پبلک کو سنا ؤ اور تم دیکھو گے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی تمہیں ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ شرفاء کا طبقہ تمہاری تائید کرے گا۔کسی قوم میں بھی سارے کے سارے لوگ برے نہیں ہوتے اور میری رائے تو یہ ہے کہ احرار میں بھی سارے برے نہیں ہیں۔پرسوں ہی ایک دوست کا خط آیا جو میں نے آج ہی پڑھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک احراری مجھ سے ملنے آیا۔وہ اعتراض کرتا تھا مگر جب اسے حقیقت حال سے آگاہ کیا جا تا تو ضد چھوڑ دیتا۔یہ ایک خاص پولٹیکل خیالات کی جماعت ہے مگر ان میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان پر حقیقت واضح کی جائے تو مان لیتے ہیں تو پھر انگریزوں میں تو اچھے لوگ بہت زیادہ ہیں۔انگریز قوم ان قوموں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیام امن کیلئے چنا ہے اس لئے ان میں یقیناً