خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 622

خطبات محمود ۶۲۲ سال ۱۹۳۵ء میں نے اس خیال سے ہاتھ نہ اُٹھایا کہ آپ میرے باپ ہیں۔ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے میں نے تجھے اُس وقت دیکھا نہیں اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو چونکہ تو خدا کا دشمن ہو کر میدان میں آیا تھا اس لئے میں تجھے ضرور ماردیتا۔تو مؤمن کا سارا دارو مدار اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔بیشک وہ اپنے باپ سے محبت کرتا ہے، بے شک وہ اپنی ماں سے محبت کرتا ہے، بے شک وہ اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے مگر اُس کی ساری محبتیں خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو جاتی ہیں۔جس طرح سورج چڑھتا اور تمام روشنیوں کو ماند کر دیتا ہے اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی محبت کا سورج چڑھتا ہے تو کوئی محبت اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔اور وہ اس طرح غائب ہو جاتی ہے جس طرح جگنو کی چمک سورج کی روشنی کے مقابلہ میں غائب ہو جاتی ہے۔ایک مؤمن کے لئے کتنی غیرت کا مقام ہے کہ اس وقت دنیا اپنے جھوٹے بھوں کی خاطر قربانیاں کر رہی ہے۔کوئی اپنی قوم کے بُت کے آگے جھکا ہوا ہے کوئی اپنے ملک کے بُت کے آگے جھکا ہوا ہے، کوئی اپنی ذات کے بُت کے آگے جھکا ہوا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا پرستار اُس کے لئے قربانیاں کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔اور پھر دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا سے محبت رکھتا ہے آخر خدا کی محبت کی کوئی علامت بھی تو ہونی چاہئے۔کبھی تم نے دیکھا کہ کوئی چیز اپنی حقیقی شان میں موجود ہوا اور پھر اس کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔کس طرح ممکن ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہو مگر اس کی روشنی نہ ہو۔کس طرح ممکن ہے کہ آگ جل رہی ہو مگر وہاں گرمی اور دھواں نہ ہو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا عشق انسان کے دل میں ہو مگر اس کی چنگاری میں چمک پیدا نہ ہو رہی ہو۔جہاں عشق ہوتا ہے وہاں تو محبوب کی معمولی معمولی بات بھی پسند آجاتی ہے۔احادیث میں ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تو راستہ میں آپ نے ایک جگہ پیشاپ کیا۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بھی جب ایک دفعہ اس مقام سے گزرے تو اسی جگہ پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ گئے چونکہ وہ تھوڑی دیر پہلے بھی پیشاب کر چکے تھے اس لئے ایک شخص نے پوچھا ابھی آپ پیشاب کر کے آئے تھے پھر پیشاب کرنے بیٹھ گئے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا مجھے پیشاب کی حاجت تو نہ تھی مگر میں یہاں اس لئے بیٹھ گیا کہ رسول کریم ﷺ یہاں پیشاب کی حاجت پر بیٹھے تھے۔کے