خطبات محمود (جلد 16) — Page 616
خطبات محمود ۶۱۶ سال ۱۹۳۵ء تا ہے کہ چونکہ ظہر کی نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب وقفہ ملنا چاہئے۔چودہ پندرہ، ہیں تمہیں یا اڑتالیس گھنٹے کا کم از کم دو نمازوں میں وقفہ ہونا چاہئے تا انسان آرام کر سکے لیکن اسلام اسے آرام قرار دیتا ہے کہ جب ظہر کی نماز انسان پڑھ لے تو دل میں خلش پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اور عبادت کریں اور جب عصر کی نماز پڑھ لے تو پھر خلش پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اور عبادت کریں اور جب مغرب کی نماز پڑھ لے تو پھر خلش پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اور عبادت کریں۔غرض مؤمن کا آرام اس کے قلب سے تعلق رکھتا ہے جسم سے نہیں اور وہ اس کے کام کا حصہ اور نجر و ہوتا ہے نہ علیحدہ چیز۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ یعنی جب تم روحانی جنگ سے فارغ ہو جاؤ تو اصل کام پھر بھی باقی ہوتا ہے اس لئے پورے زور سے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑو۔پس اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر مومن کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا اور اس کی اولاد اور عزیز واقارب کا بھلا کام کرنے میں ہی ہے اور حقیقی آرام بغیر کام کے نہیں مل سکتا۔مگر میں دیکھتا ہوں یہ خیال کہ کام کرنے کے بعد کچھ دیر کے لئے کام چھوڑ بھی دینا چاہئے یا کام کرنے کے بعد انسان کو پنشن ملنی چاہئے ، ایسا غالب ہے کہ کئی لوگ کام کو بوجھ اور چٹی تصور کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفوس کی اصلاح اور اپنی اولادوں کی اصلاح کی طرف سے بالکل غافل ہیں۔خود اپنے کاموں میں جس طرح انہیں اوقات کا استعمال کرنا چاہئے نہیں کرتے۔حالانکہ جب انسانوں کے ذمہ اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑا کام ڈالا گیا ہے تو لازماً انہیں کام بھی بہت زیادہ کرنا چاہئے۔مثلاً تمام لوگوں کے ذمہ یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ روزی کمائیں اور اپنے بیوی بچوں کو کھلائیں۔اس کے لئے کسی کو چھ کسی کو سات کسی کو آٹھ، کسی کو نو کسی کو دس کسی کو گیارہ اور کسی کو بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے لیکن جب کوئی شخص الہی سلسلہ میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ذمہ دو کام ہو جاتے ہیں۔ایک کام تو وہی ہے جو باقی لوگوں کے ذمہ ہے یعنی اپنے نفس کے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے روزی کمائے اور کھلائے لیکن دوسرا کام اس پر یہ بھی ڈالا جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کا والی وارث بنے اور تمام دنیا کے آرام کا ذمہ وار بنے۔پس جس کے ذمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کام ہوں اُسے کام بھی دُہرا کرنا پڑے گامگر کتنے ہیں جو اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص اگر اپنے نفس پر اور اپنے گر دو پیش