خطبات محمود (جلد 16) — Page 591
خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۵ء لئے وہ قربانی زیادہ مشکل ہوگی اتنا ہی ثواب اسے زیادہ حاصل ہوگا پھر فر ما یا إِذْ اَنْتُمُ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصُوَى وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدْتُمُ لَاخْتَلَفْتُمُ فِي الْمِيْعِدِ وَلَكِن لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا۔تمہارے اور ان کے مابین ٹکراؤ کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی تم وادی کے ایک طرف تھے اور وہ دوسری طرف۔وہ قافلہ جس کی حفاظت کے لئے وہ آئے تھے ، نکل گیا تھا۔اور اب ان کا کوئی INTEREST لڑائی میں نہ تھا جنگ کی کوئی صورت نہ تھی اور بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ لڑائی نہیں ہوگی اور وہ لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔اور فرمایا۔وَلَوْ تَوَاعَدْتُمُ لَا خَتَلَفْتُمْ فِى الْمِيْعِدِ۔اگر تم سے پوچھا جاتا کہ کب لڑائی ہو تو تم یہی کہتے کہ ابھی کچھ عرصہ تک نہیں ہونی چاہئے تا اس عرصہ میں ہم زیادہ طاقتور ہو جائیں۔مگر فرمایا وَلَكِنْ لِيَقْضِيَ اللهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لیکن اللہ تعالیٰ وہی بات کرتا ہے جو اُس کی مشیت اور اُس کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہو اگر مسلمان تعداد میں زیادہ ہو کر فتح پاتے تو خدا کا ہاتھ کہاں دکھائی دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبد الحمید کی ایک بات کا اکثر ذکر فرماتے۔اور فرمایا کرتے کہ اُس کی یہ بات مجھے بہت ہی پیاری لگتی ہے۔باوجود اس کے کہ آپ ترکوں کی حالت پر شا کی تھے کہ وہ دین کی طرف توجہ نہیں کرتے مگر اس بات کو آپ بہت ہی پسند فرماتے تھے کہ جب جنگ یونان یا شاید کوئی اور جنگ ہونے لگی تو سلطان نے اپنے جرنیلوں کو مشورہ کے لئے بلایا وہ لوگ چونکہ غدار تھے اور یورپ کی سلطنتوں سے رشوتیں لے چکے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ فلاں سامان ہے ، فلاں ہے اور پھر آخر میں کسی اہم چیز کا نام لے کر کہہ دیا کہ وہ نہیں۔مطلب یہ تھا کہ اس کے نہ ہونے کی صورت میں سلطان لڑائی پر کیسے آمادہ ہو گا۔لیکن سلطان نے ان کی یہ بات سن کر کہا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لئے بھی خالی رہنے دو اور چلولڑائی شروع کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے۔تو جنگِ بدر کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کا خانہ خالی رہے۔اور کوئی مقام ایسا ہو جہاں سے وہ اپنے دشمنوں پر حملہ کر سکے۔مسلمان تو چاہتے تھے کہ سب کچھ ہم ہی کریں لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ میرا بھی حصہ ہو اور اس طرح گویا مؤمن اور خدا میں محبت کی بحث تھی ہاں جو لوگ مخلص نہیں ہوتے وہ یہی کہتے ہیں کہ سارا خدا کرے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہہ دیا کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ جاتو اور تیرا رب لڑتے پھر وہم تو یہاں بیٹھے