خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 579

خطبات محمود ۵۷۹ سال ۱۹۳۵ء کہ چونکہ پانچ سو آدمی یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول کریم ی کی ہتک کی اور انہیں اس بات پر اس حد تک یقین ہے کہ وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی لعنت لینے کے لئے بھی تیار ہیں۔اس لئے یہ ایک اہم معاملہ ہے اور ضروری ہے کہ ان سے ہم مباہلہ کریں۔لیکن اگر اور لوگ تو سامنے نہ آئیں اور وہ پانچ سات آدمی جن کی زندگیاں ہی لوگوں سے روپیہ بٹورنے میں خرچ ہو رہی ہیں تو صرف ان کا سامنے آنا کیا حقیقت رکھتا ہے پھر یہ پانچ سو آدمی لانے کی شرط صرف ان کے لئے نہیں بلکہ ہمارے لئے بھی ہے بلکہ ہماری جماعت کے لحاظ سے تو پانچ سو کی تعداد کم ہے اور اگر ہم چاہیں تو پانچ سو یا ہزار کیا دو ہزار تین ہزار بلکہ چار ہزار آدمی بھی لا سکتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں اگر ہم یہ شرط لگا دیں کہ قسم کھانے والے وہ ہونے چاہئیں جنہوں نے کم از کم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چار پانچ نہایت اہم کتابیں پڑھی ہوئی ہوں تو شاید اس کے نتیجہ میں احرار کے لیڈر بھی میدان سے بھاگ جائیں گے کیونکہ وہ عموماً دوسروں کے حوالوں پر انحصار رکھ کر اعتراض کر دیتے ہیں۔خود کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے جیسا کہ کسی نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ قرآن مجید میں آتا ہے لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ ے نماز مت پڑھو۔اور آیت کا اگلا حصہ نہیں پڑھتا تھا پس مباہلہ کے لئے پانچ سو یا ہزاروں آدمیوں کی موجودگی کی شرط لگانا ضروری ہے۔ہاں اگر اس پر انہیں کوئی اعتراض ہے تو وہ اسے پیش کریں۔رسول کریم ﷺ نے بھی جب مباہلہ کا ارادہ کیا تو قوم کے نمائندوں کے ساتھ کیا۔چنانچہ روایات میں صاف آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ لوگ مباہلہ کر لیتے تو نجران کی وادیوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اُترتا۔مگر نجران والے اس میں شامل نہیں تھے تو ان کی وادیوں پر عذاب اُترنے کے کیا معنی تھے۔پھر روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر مباہلہ ہوتا تو حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ اور دیگر اعلیٰ حیثیت رکھنے والے صحابہ بھی بلوائے جاتے۔کے پس اس معاملہ میں یہ کہنا کہ میں اپنے آپ کو الگ رکھتا ہوں لوگوں کو دھوکا وفریب میں مبتلاء کرنا ہے۔میرا وجود سب سے مقدم ہے اور میں سب سے پہلے اس مباہلہ میں شامل ہونگا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ - کے یعنی امام ڈھال ہوتا ہے اور لڑائی میں پہلے وہ ہوتا ہے اور پیچھے دوسرے۔قرآن مجید میں بھی جہاں جہاد کا حکم ہے وہاں اللہ تعالیٰ رسول کریم علی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔یہ حکم خاص طور پر تیرے لئے ہے۔ہاں تیرا فرض ہے کہ باقی لوگوں