خطبات محمود (جلد 16) — Page 564
خطبات محمود ۵۶۴ سال ۱۹۳۵ء بدلہ دے کر اُسے آگے پیچھے کر سکتی ہے مگر ایسی ضرورت رفاہ عام کی ہونی چاہئے۔مثلا کوئی اہم سڑک ہے جس پر پبلک کی صحت کا انحصار ہے حکومت مکانات خرید کر اس میں شامل کرتی آرہی ہے اور آگے مسجد آ جاتی ہے تو حکومت مسجد کے پیچھے والا مکان اس میں شامل کر کے مسجد کو پیچھے کر سکتی ہے بشرطیکہ ایسی مسجد شعائر اللہ میں سے نہ ہو۔جیسے مثلاً ہماری مساجد ہیں یا وہ مساجد جن میں حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت معین الدین چشتی، حضرت داتا گنج بخش اور دوسرے بزرگ عبادتیں کرتے رہے ہیں۔ایسی مساجد ان بزرگوں کی وجہ سے خاص برکت رکھتی ہیں۔گواہلحدیث ایک حدیث کی بناء پر کہ خانہ کعبہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے سوا کسی مسجد کی طرف سفر کر کے جانا درست نہیں ، خیال کرتے ہیں کہ ان تین مساجد کے سو اشعائر اللہ والی مسجد کوئی نہیں مگر دوسرے لوگوں کا یہ عقیدہ نہیں اور ہم لوگ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں سمجھتے اور ہمارے نزدیک گوخانہ کعبہ اور مسجد نبوی جیسی با برکت اور کوئی مسجد نہیں ہو سکتی لیکن ان کے تابع على قدر مراتب دوسرے بزرگوں نے جن مساجد میں عبادت کی ہوان کی دعاؤں کی وجہ سے ہمارے نزدیک ان مساجد میں بھی برکات ہوتی ہیں اور وہ بھی محفوظ رکھے جانے کے قابل ہیں اس لئے ایسی مساجد کو چھوڑ کر عام مساجد کے متعلق میرا عقیدہ ہے کہ اُن میں اس قسم کی تبدیلی جائز ہے جس کی میں صراحت کر چکا ہوں۔تیسرے میرا عقیدہ یہ ہے کہ جس عبادتگاہ کو گرا کر اُسے دوسری شکل دے دینے پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہو اس کے متعلق کسی قسم کی شورش کرنا درست نہیں کیونکہ الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ کے ارشاد کے مطابق فتنہ پیدا کر نا قتل سے بھی سخت ہے۔اُس وقت کے لوگ اگر شور کرتے جن کے زمانہ میں گرائی گئی تو وہ حق بجانب ہوتے مگر ایک لمبے عرصہ کے بعد اس کے متعلق شورش فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے بشرطیکہ ایسی مسجد شعائر اللہ میں سے نہ ہو۔شعائر اللہ سے تعلق رکھنے والی مسجد کے متعلق تو ہر زمانہ میں پروٹیسٹ کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہئے لیکن عام عبادت گاہوں کے متعلق سالہا سال بعد یہ سوال اُٹھانا کہ اسے گرا کر دوبارہ اصلی صورت میں تبدیل کیا جائے خواہ مخواہ کا فتنہ پیدا کرنا ہے اور یہ جائز نہیں۔ایسے امور کے متعلق میں یہی کہوں گا کہ جو چیز جس شکل میں ہے، اُسی میں رہنے دی جائے۔مسلمانوں نے اگر اپنے زمانہ میں کوئی زیادتی کی تو سکھوں نے اپنے زمانہ میں کر لی۔عوض معاوضہ گلہ ندارد۔لیکن یہاں ان تینوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں تھی۔وہ مسجد قائم تھی اور