خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 523

خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۵ء کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور دشمن سر پر پہنچ کرنا کام واپس لوٹ گیا۔سے ایک یہودن نے آپ کو کھانے میں زہر دے دیا اور آپ نے ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں بھی ڈال لیا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا اور آپ نے اسے پھینک دیا اب یہ بالکل غیر معمولی بات ہے عام بادشاہوں کو اسکا کسی طرح علم نہیں ہو سکتا۔یہ تو ممکن ہے کہ زہر تھوڑا کھائیں اور بچ جائیں لیکن یہ نہیں کہ لقمہ منہ میں ڈالتے ہی علم ہو جائے۔پھر ایک دفعہ یہود نے آپ کو ایک فیصلہ کرنے کے بہانہ سے بلایا اور ایسا انتظام کر دیا کہ اوپر سے بڑا سا پتھر گرا کر آپ کو ہلاک کر دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ما بتا دیا اور آپ بات کرتے کرتے اُٹھ کر آ گئے۔کے بعض روایات میں ہے کہ کسی آدمی نے آپ کو اطلاع دے دی۔اگر یہ ہو تو بھی دشمن کے ذریعہ سے پتہ لگنا ایک نشانِ الہی ہے۔غرض آپ نے واپس آ کر صحابہ سے فرمایا کہ اس مکان کی چھت کو جا کر دیکھو اور جب وہ گئے تو وہاں چکی کا پاٹ پڑا ہوا پایا۔پھر آپ ایک غزوہ سے واپس آ رہے تھے۔ایک دشمن نے قسم کھائی کہ میں ضرور راستہ میں آپ کو ماردوں گا۔راستہ میں ایک جنگل میں آپ ٹھہرے اور صحابہ اس خیال سے کہ یہاں کسی دشمن کا گزر کس طرح ہوسکتا ہے ، ادھر اُدھر چلے گئے آپ اکیلے ایک درخت کے نیچے سور ہے تھے کہ اُس دشمن نے آپ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی اُتار لی اور کہا اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا خدا۔اتنا کہنا تھا کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آپ نے اُسے اُٹھا کر اس سے پوچھا کہ اب بتا تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپ کا خیال تھا کہ اس نے مجھ سے سن کر سبق حاصل کر لیا ہوگا اور یہی جواب دے گا۔مگر اس کی حالت اُس وقت ایسی گندی تھی کہ پھر بھی اسے سمجھ نہ آئی اور اس نے یہی کہا کہ آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا ابھی میں نے تمہیں سبق دیا تھا مگر پھر بھی تم نے اللہ کا نام نہیں لیا۔جاؤ میں تم کو چھوڑتا ہوں۔پھر اُحد کی جنگ میں دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا۔اس قسم کے بہت سے واقعات آپ کی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔آپ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ما بتایا کہ بعض منافق رستہ میں جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔انہوں نے خیال کیا تھا کہ جنگل ہے اور رات کے اندھیرے میں ہم آپ کو مار دیں گے کسی کو علم بھی نہ ہو سکے گا اور اسی لئے وہ