خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 512

خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۳۵ء اعتراض نہیں ہو گا جیسے کیپٹن ڈگلس صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فلاں فلاں عیسائیوں نے چونکہ آپ پر جھوٹا مقدمہ دائر کیا ہے اس لئے آپ کو اجازت ہے کہ ان عیسائیوں پر مقدمہ دائر کر دیں۔یہ سنکر ہمارا دل خوش ہو گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ میں مقدمہ کرنا نہیں چاہتا لیکن اگر ڈگلس صاحب بجائے یہ کہنے کے یہ کہتے کہ یہ چونکہ عیسائی ہیں اور حکومت کو ان کا پاس ہے ، اس لئے آپ ان پر مقدمہ نہیں چلا سکتے تو ہمیں ہمیشہ ڈگلس صاحب پرشکوہ رہتا۔اسی طرح گورنمنٹ اگر دونوں فریق کو آزاد کر دے تو ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔گوسو میں سے ننانوے کا جواب ہم پھر بھی نہیں دیں گے۔پس ایک بات تو یہ ہے کہ جسے نیشنل لیگ والوں کو اپنے پروگرام میں شامل کرنا چاہئے۔اس کا طریق عمل یہ ہو سکتا ہے کہ نیشنل لیگ گورنمنٹ کے سامنے یہ بات کھلے طور پر رکھ دے کہ وہ دونوں فریق سے مساوی سلوک کرے ورنہ جیسے وہ حوالجات پیش کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان کی کتابوں سے حوالے پیش کریں گے اپنی طرف سے نہیں، کیونکہ اپنی طرف سے حوالہ بنا کر دوسرے کی طرف منسوب کرنا لعنتیوں کا کام ہے بلکہ انہی کی مسلمہ کتب سے اور اگر اس کے نتیجہ میں فساد پیدا ہو تو اس کی ذمہ داری احمد یوں پر نہیں بلکہ حکومت پر ہوگی جس نے دونوں جماعتوں میں فرق کیا یا اور جائز ذرائع سے جو بھی قانون کی حد کے اندر ہوں، وہ کام لے۔دوسری بات جس کی طرف لیگ کو توجہ کرنی چاہئے وہ مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ ہے جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ کیس عدالت میں پیش ہو چکا ہے۔پس سب سے پہلے جماعت کو عدالتی چارہ جوئی ہی کرنی چاہئے اس لئے کہ جس امر کے متعلق قانون نے ہمارے لئے رستہ کھولا ہوا ہو ان امور کے متعلق ہمیں اپنے قلم یا اپنی زبان کو اُس وقت تک استعمال نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ قانونی ذرائع ہمارے لئے بند نہ ہو جائیں۔تیسرا امر جو نیشنل لیگ کو مدنظر رکھنا چاہئے یہ ہے کہ ایسے افسر اس ضلع میں بھی ہیں اور باہر بھی جنہوں نے سلسلہ کی متواتر ہتک کی ہے اور سلسلہ کے تمام حقوق کو انہوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔صدر انجمن نے متواتر حکومت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ ان افسروں کو سزا دے مگر حکومت نے ہمیشہ بے تو جہی سے کام لیا ہے نیشنل لیگ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ایسے جائز ذرائع سے کام لے کر جو قانون اور