خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 508

خطبات محمود ۵۰۸ سال ۱۹۳۵ء السلام کا حوالہ درج کر کے شور مچایا جاتا ہے کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو حرامزادہ کہہ دیا۔اس کے مقابلہ میں قاضی محمد یوسف صاحب نے اپنی ایک کتاب میں ثابت کیا کہ شیعوں نے بھی سُنیوں کو حرامزادہ کہا ہے تو حکومت نے جھٹ اس کتاب کو ضبط کر لیا۔اگر دشمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کا حوالہ پیش کر کے روزانہ اخباروں اور رسالوں میں یہ لکھے کہ مرزا صاحب نے تمام مسلمانوں کو حرامزادہ کہہ دیا اور وہ اس بات کو تمام ہندوستان میں مشہور کرے اور جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلائے تو حکومت کے نزدیک کوئی حرج نہیں لیکن اگر شیعوں کی نسبت بھی یہی بات ثابت کر دی جائے کہ انہوں نے بھی سنیوں کو حرامزادہ کہا ہے تو وہ کتاب ضبط ہونے کے قابل ہو جاتی ہے۔اگر واقعہ میں کسی کتاب کا حوالہ دینا جرم ہے اور کسی کی بات کو ڈ ہرانا ایسی حرکت ہے جو قانون کے لحاظ سے قابل گرفت ہے تو حکومت کو چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے حوالجات کی بناء پر جن جن رسالوں ، اخباروں اور اشتہاروں میں یہ دُہرایا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے تمام مسلمانوں کو حرامزادہ کہ دیا انہیں ضبط کرتی کیونکہ اس کے نزدیک اس قسم کے الفاظ سے فساد پیدا ہوتا ہے لیکن اگر فساد پیدا نہیں ہوتا تو کیوں ہمارے سلسلہ کی ایک کتاب ضبط کی گئی۔دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔یا تو کسی کو حرامزادہ کہنا اشتعال پیدا کرتا ہے یا حرامزادہ کہنے سے اشتعال پیدا نہیں ہوتا۔اگر حرامزادہ کہنے سے اشتعال پیدا ہوتا ہے تو وہی قانون ہمارے مخالفوں کے متعلق بھی استعمال کرنا چاہئے جبکہ وہ بار بار یہ کہہ کر لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں کہ مرزا صاحب نے مسلمانوں کو حرامزادہ کہا ہے اور اگر اشتعال پیدا نہیں ہوتا تو حکومت کو ہماری ایک کتاب بھی ضبط نہیں کرنی چاہئے تھی۔البتہ ایک غذر کیا جا سکتا ہے جو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جو کلمات منسوب کئے جاتے ہیں وہ آپ نے استعمال کئے ہیں مگر شیعوں کی طرف جو بات منسوب کی گئی ہے وہ غلط ہے ان کی کتب میں ایسا نہیں لکھا۔اگر حکومت کو یہ شک ہے تو اسے مقدمہ چلا کر دیکھ لینا چاہئے کہ آیا فی الواقع قاضی صاحب نے جو کچھ لکھا وہ شیعوں کی کتب میں سے لکھا ہے یا جھوٹے طور پر ان پر الزام لگا دیا ہے۔اگر قاضی صاحب ثابت کر دیں کہ شیعوں کی کتابوں میں بالصراحت لکھا ہے کہ سارے سنی حرامزادے ہیں بلکہ ہر شخص جو غیر شیعہ ہو خواہ ہندو ہو ،سکھ ہو ، عیسائی ہو ، حرامزادہ ہے اور شیطان کی اولاد ہے بلکہ یہاں تک لکھا ہو کہ جب ایک غیر شیعہ خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندو یا سکھ اپنی بیوی