خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 492

خطبات محمود ۴۹۲ سال ۱۹۳۵ء جائے تو دو میں مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے باقی سب صوبوں میں تو ہندوؤں کا فائدہ ہے۔آبادی کے لحاظ سے بھی برما کوعلیحدہ کر کے ہندوستان کی آبادی ۳۲ کروڑ ہے اور پنجاب وسرحد کی پونے تین کروڑ۔گویا دسویں حصہ سے بھی کم ہے۔پھر اس میں ہندو اور سکھ زمیندار ہیں اور ان کو نکال کر مسلمانوں کا حصہ سولہواں سترواں ہوتا ہے گویا سارے ملک میں مسلمان زمیندار اتنی تعداد میں ہیں کیونکہ پنجاب سے باہر دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت انہیں اقوام پر مشتمل ہے جنہیں کمین سمجھا جاتا ہے اس لئے پنجاب میں زمینداروں کی ترقی کے لئے جو سکیم ہو اس میں اگر ہند وشامل ہو جائیں تو وہ باقی صوبوں میں ان کے لئے فائدہ کا موجب ہو گی۔پس زمینداروں کی ترقی کا سوال قومی نہیں بلکہ خالص ہندوستانی ہے اور اگر اس کا پورے طور پر اعلان کیا جائے تو ہندوؤں کی تجارتی قو میں بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔میں تو کہا کرتا ہوں کہ زمیندار بنیوں کی بھینس ہیں اور کوئی بھینس بغیر چارہ کے دودھ نہیں دے سکتی۔ہر شخص کوشش یہی کرتا ہے کہ کچھ زیادہ خرچ کر کے بھی ایسی بھینس حاصل کرے جو زیادہ دودھ دیتی ہو کیونکہ جو زیادہ دودھ نہیں دیتی اور جو دیتی ہے ان پر چارے کا خرچ یکساں ہی ہو گا۔اس طرح بنیوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ زمینداروں کی مالی حالت اچھی ہو۔مثلاً آج اگر زمیندار کہہ دیں کہ ہم قرض ادا نہیں کر سکتے تو ساہوکا ر کیا کر سکتے ہیں لیکن زمیندا راگر آسودہ حال ہو جائیں تو قرضہ کی وصولی کی زیادہ امید ہوسکتی ہے پس اگر عقلمندی سے تاجر اقوام کو سمجھایا جائے تو وہ بھی ایسی تحریک سے ہمدردی کریں گی اور اس طرح لیگ اتنا وسیع کام کر سکتی ہے کہ ہر شخص اس کا ممنون ہوگا ، یہ کام نیشنل لیگ کے سوا کوئی کر ہی نہیں سکتا۔گاندھی جی نے تو اس طرف توجہ کی تھی مگر وہ سود خورلوگوں سے اتنا ڈرتے ہیں کہ یہ کام نہیں کر سکتے وہ ان کے جال میں بالکل بند ہیں۔ان کے علاوہ کسان سبھا ئیں بھی ہیں مگر وہ بھی یہ کام نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ بولشو یک روس کی طرح بغاوت پیدا کرنا چاہتی ہیں اور کامیابی درمیانی راہ سے ہی ہو سکتی ہے اور اسے لیگ ہی اختیار کرسکتی ہے۔پانچویں نصیحت یہ ہے کہ ہر کام کرنے کے لئے اعضاء کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے پندرہ سے چالیس سال تک تمام دوستوں کی تنظیم کی جائے اور احمد یہ کور کے اصول پر کور میں بنائی جائیں جن کا کام یہ ہو کہ ہر غریب اور مسکین کی امداد کریں۔کسی کا بچہ گم ہو جائے ، کوئی ڈوب رہا ہو تو اُس کی مدد کریں۔کہیں آگ لگے تو اسے فروکر نیکی کوشش کریں ، انہیں تیرنا سکھایا جائے اور ایسے رفاہ عام کے