خطبات محمود (جلد 16) — Page 483
خطبات محمود ۴۸۳ سال ۱۹۳۵ء اس کی حفاظت کے لئے مہیا کئے ہیں ایک حد تک اس میں مبتلاء ہو جائے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں لیکن محض اس وجہ سے کہ لوگ ایسے امراض میں مبتلاء ہوا ہی کرتے ہیں تسلی نہیں ہو سکتی۔اگر ہمارے اندر کوئی لغو ، مضر اور نقصان دہ چیز ہو تو اس کے چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر جماعت ریزولیوشنوں ، زبانی شور و شر اور ظاہری اظہار ناراضگی تک ہی اپنی کوشش کو محدود رکھے تو اسے ہر معقول انسان جو اسلام اور احمدیت کو سمجھتا ہے نا پسند کرے گا۔اسلام عمل پر زور دیتا ہے۔پانچ نمازوں میں سے صرف تین میں بلند آواز سے قرآت پڑھی جاتی ہے اور ان کا بیشتر حصہ بھی خاموشی کی عبادت پر مشتمل ہے اور باقی دو نمازیں بالکل خاموشی سے ادا کرنے کا حکم ہے۔اس میں ایک سبق ہے کہ باتیں اور باتیں اور باتیں ہی کرتے جانا مفید چیز نہیں۔انسان کو چاہئے کہ نیک ارادہ رکھے اور پھر اس پر عمل کرے۔اس کا کیا فائدہ ہے کہ یونہی شور کیا جائے ، کام ہی ہے جس سے منافق کو مؤمن سے الگ کیا جا سکتا ہے، باتوں میں تو ہر کوئی شامل ہو سکتا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی مجالس میں منافق سب سے آگے آ کر بیٹھتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ لکڑیوں کے ستون ہیں جن پر چھت کا سہارا ہے اور دیکھنے والا یہ سمجھتا تھا کہ یہ لوگ سب سے معتبر ہیں لیکن کام کے وقت وہ بھاگ جاتے تھے۔باتوں کے وقت کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ کون حقیقی مؤمن ہے اور کون منافق ہے۔دُھواں دھار تقریر میں کرنا اور بڑے بڑے ریزولیوشنز پاس کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔یونہی کا غذ سیاہ کرنے سے کیا فائدہ ؟ ریز و لیوشن پاس کر کے ایک نقل مجھے ، ایک الفضل کو اور ایک حکومت کو بھیج دینا کون سا مشکل کام ہے کون ایسا ذلیل، بُزدل اور کمزور انسان ہو گا جو دو حرف لکھ کر شائع نہیں کر سکتا جس چیز میں آکر بزدل رہ جاتے ہیں وہ کام ہے۔منافق حقیقی قربانی کے وقت کھسک جاتے ہیں۔جو لوگ رسول کریم سے اس قدر اخلاص کا اظہار کرتے تھے اور اپنی بہادری کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے جب جنگ احد کا وقت آیا تو رستہ میں ہی چھوڑ کر گھروں کو چلے آئے اور صاف کہ دیا کہ یہ لڑائی نہیں ، موت ہے اور اس میں شامل ہو نا خواہ مخواہ قوم کو تباہی کے منہ میں لے جانے کے مترادف ہے۔اس قسم کے آدمی باتوں میں تو شامل ہو سکتے ہیں مگر عمل ان کی حقیقت کو ظاہر کر دیتا ہے اس لئے میں جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ پہلے حقیقی قربانی کی روح پیدا کرنی چاہئے اور پھر امید رکھنی چاہئے کہ کوئی لیڈر پیدا ہو جو راہنمائی