خطبات محمود (جلد 16) — Page 484
خطبات محمود ۴۸۴ سال ۱۹۳۵ء کرے۔راہنمائی کے لئے سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ بغیر سپاہیوں کے کوئی بڑے سے بڑا جرنیل بھی کامیاب ہو گیا ہوشی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو بھی یہ حکم نہیں دیا کہ اکیلے جنگ کرو جب تک پہلے لشکر نہ تیار ہو اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھی اکیلے جنگ کے لئے نہیں بھیجتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے پہلے لشکر تیار ہوا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لشکر تیار ہوا ، حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے لشکر تیار نہیں ہوا لیکن ان کو جنگ کا حکم بھی نہیں دیا بلکہ کہا کہ جاؤ اور سولی پر چڑھ جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو کام تلوار سے لیا وہی حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں سولی سے لے لیا۔وہ جس ذریعہ سے چاہے کامیابی عطا کر دیتا ہے ، اس نے مؤمن سے قربانی لینی ہے ، جس رنگ میں چاہے لے لے۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر فوج نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس کامیابی کا کوئی ذریعہ ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کو اپنے قوانین کا خود احترام ہے جس طرح دُنیوی بادشاہوں کو بھی ہوتا ہے اور وہ ان قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے دین کی کامیابی کا کوئی نہ کوئی ذریعہ نکال لیتا ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اس زمانہ میں بھی کوئی نہ کوئی رستہ اس نے کامیابی کا مقرر کیا ہے مگر صاف ظاہر ہے کہ وہ رستہ تلوار کا نہیں ہو سکتا ور نہ سپاہی بھی ساتھ ہوتے۔پس اس زمانہ میں کامیابی کا رستہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح سولی پر چڑھنے کا رستہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سے جو لوگ دعوے کرتے ہیں کیا وہ سولی پر چڑھنے کو تیار بھی ہو سکتے ہیں، قید و بند کے مصائب جھیل سکتے ہیں، ماریں اور جوتیاں کھا سکتے ہیں ، گالیاں سن سکتے ہیں، لٹھ کھانے کے لئے تیار ہیں، یا اور کسی رنگ کے مصائب جو ان کے لئے مقدر ہیں ، اُٹھانے کو تیار ہیں ، اگر تیار ہیں تو ان کے لئے کا میابی بھی یقینی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جماعت کو کھڑا کر دے گا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے وطن اور اپنی جان و مال کی قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا میابی کا رستہ کھولتا ہے اور اگر جماعت ان چیزوں کے لئے تیار نہیں تو وہ کبھی بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی خواہ لاکھ سال ریزولیوشنز پاس کرتی رہے۔ریزولیوشنز سے نہ خدا خوش ہو سکتا ہے اور نہ اس کے بندے اور نہ کوئی معقول انسان انہیں مفید سمجھ سکتا ہے اسی لئے میں نے توجہ دلائی تھی کہ دھواں دھار تقریروں کی بجائے اپنے آپ کو منظم کریں میں نے ایک رستہ بتا یا تھا اور وہ نیشنل لیگ کا