خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 463

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہے۔اور چونکہ ہماری یہ تعلیم ہے کہ جو شخص جس حکومت کے ماتحت بھی رہتا ہو وہ اس کے قوانین کی اطاعت کرے، اس لئے اگر کسی وقت انگلستان اور امریکہ کی جنگ ہو جائے جو گو اخباری روایات کے مطابق ناممکن نظر آتی ہے مگر حقیقت ایسی ناممکن نہیں تو امریکہ کے احمدیوں کو ہماری تعلیم یہی ہوگی کہ امریکن حکومت کی امداد کریں اور انگلستان کے احمدیوں کو ہماری تعلیم یہ ہوگی کہ حکومت انگلستان کی امداد کریں۔پس امریکہ کے احمدی حکومت امریکہ کی طرف سے اور انگلستان کے احمدی حکومت انگلستان کی طرف سے جنگ کریں گے۔یہ نہیں ہوگا کہ ہم انہیں ملک سے غداری کی تعلیم دیں۔اسی طرح اگر کبھی ہالینڈ اور انگلستان کی جنگ چھڑ جائے تو اس جنگ کے وقت بھی ہماری تعلیم یہی ہو گی کہ جولوگ انگریزوں کے ماتحت رہتے ہیں وہ انگریزوں کی امداد کریں اور جو حکومت ہالینڈ کے ماتحت رہتے ہوں وہ اپنی حکومت کی طرف سے لڑیں۔ہم انگلستان کے احمدیوں کو حکومت انگلستان سے یا ہالینڈ کے احمدیوں کو حکومت ہالینڈ سے غداری کی تعلیم نہیں دیں گے۔بے شک پہلے دونوں کی کوشش یہ ہوگی کہ جنگ نہ ہوا اور بجائے جنگ کے صلح و صفائی سے معاملات طے پا جائیں لیکن اگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو تو جو احمدی جس ملک میں رہتا ہے وہ اس حکومت کے ساتھ وفاداری کرے گا مگر باوجود اس تعلیم کے کہ جس حکومت کے ماتحت کوئی شخص رہتا ہو وہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے پھر بھی یہ قدرتی بات ہے کہ ہمارے وعظوں لیکچروں ، کتابوں ، اخباروں اور رسالوں میں چونکہ بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ انگریز عادل و منصف ہیں اور وہ اپنی رعایا کے تمام فرقوں سے حسن سلوک کرتے اور امن و امان قائم رکھتے ہیں اس لئے غیر ممالک کے احمدی بھی ہمارے لٹریچر سے متاثر ہو کر کہتے ہیں کہ گو ہم انگریزوں کے ماتحت نہیں لیکن چونکہ ہمارا مرکز ان کی تعریف کرتا ہے اس لئے وہ بُرے نہیں بلکہ منصف مزاج حکمران ہیں۔اس ذریعہ سے ہزاروں آدمی امریکہ میں، ہزاروں آدمی ڈچ انڈیز میں اور ہزاروں آدمی باقی غیر ممالک میں ایسے تھے جو گو اپنی اپنی حکومتوں کے وفادار تھے مگر انگریزوں کے متعلق بھی کلمہ خیر کہا کرتے تھے۔امریکہ جسے کسی وقت جرمن ایجنٹوں نے انگریزی گورنمنٹ کے خلاف کرنے کے لئے اپنی تمام کوششیں صرف کر دی تھیں وہاں احمدی ہی تھے جو اپنی جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے جس میں انگریزوں کی تعریف ہوتی آپ ہی آپ ان خیالات کا ازالہ کرتے تھے۔اسی طرح ڈچ انڈیز جاپان کے قرب کی وجہ سے جسے اس وقت ایشیائی آزادی کا خیال گد گدا رہا ہے اور اس میں