خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 462

خطبات محمود ۴۶۲ سال ۱۹۳۵ء اگر وہ خاموش رہتے تو نہ انہیں جان دینی پڑتی اور نہ شرعی طور پر ان پر کوئی الزام عائد ہوسکتا لیکن اب جو موجودہ حالات پیدا ہو چکے ہیں ان کے ماتحت کون امید کر سکتا ہے کہ ہمارے آدمی آئندہ رستہ چھوڑ چھوڑ کر بھی حکومت کی مدد کریں گے۔بے شک عقیدہ ہمارا یہی رہے گا کہ چونکہ موجودہ زمانہ میں شرائط نہیں پائی جاتیں اس لئے جہاد بھی جائز نہیں مگر یہ ہمدردی نہیں رہے گی کہ لوگوں کو جا جا کر ہم سمجھائیں کہ حکومت کے خلاف اپنے دلوں سے اس قسم کے خیالات نکال دو۔آج بھی سب سے اہم اعتراض جو احرار کی طرف سے ہماری جماعت پر کیا جا تا ہے یہ ہے کہ جماعت احمد یہ جہاد کو حرام قرار دیتی ہے چنانچہ ڈاکٹر سر اقبال نے بھی یہی اعتراض کیا ہے کہ جماعت احمدیہ نے ملت اسلامیہ کی طاقت کو توڑ دیا ہے کیونکہ یہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتی ہے۔وہ چونکہ شاعر ہیں اس لئے وہ اپنے خیالات کو اکثر شعروں میں ظاہر کرتے رہتے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی ایک نظم میں بھی لکھا ہے کہ بہائی اور احمدی دونوں اسلام کے لئے مصیبت ہیں۔بہائیوں نے حج منسوخ کر کے اسلام کو تباہ کر دیا اور احمدیوں نے جہاد منسوخ کر کے اسلام کو تباہ کر دیا۔پس پنجاب گورنمنٹ کے نئے دوست ہم پر اس وجہ سے ناراض ہیں کہ ہم جہاد کے خلاف تعلیم دیتے ہیں اور بے شک ہم جہاد کے مخالف ہیں اور رہیں گے کیونکہ موجودہ زمانہ میں وہ شرائط مفقود ہیں جن کے ماتحت جہاد جائز ہوتا ہے لیکن گورنمنٹ کے موجودہ طریق عمل کے ماتحت آئندہ صرف یہی ہوگا کہ جو احمدی ہوگا اسے ہم بتادیں گے کہ جہاد کے متعلق فلاں فلاں شروط ہیں اور چونکہ اب وہ شرائط نہیں پائی جاتیں اس لئے جہاد جائز نہیں۔یہ نہیں ہو گا کہ لوگوں کے ان خیالات کی ان کے گھر جا کر اصلاح کی جائے اور اس طرح گورنمنٹ بہت بڑے فائدہ سے محروم ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہمارے ہزاروں کی تعددا میں افراد ہیں۔مثلاً دو غیر ملک تو ایسے ہیں جن میں خصوصیت سے ہماری جماعت پھیلی ہوئی ہے۔ایک یونائٹڈ سٹیٹس امریکہ جس میں ۲۵، ۳۰ کے قریب جماعتیں ہیں اور ان جماعتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں احمدی ہیں ، دوسرا ڈچ انڈیز یعنی سماٹرا اور جاوا، ان ممالک میں بھی ہزاروں احمدی ہیں بلکہ ڈچ انڈیز میں خصوصیت سے ایسے لوگ احمدی ہوئے ہیں جو پہلے بالشویک ازم کے پیرو تھے مگر اب احمدیت کے ذریعہ وہ اپنے پہلے خیالات سے تو بہ کر کے لوگوں کو امن پسندی کی تعلیم دے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کی حکومت انہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتی