خطبات محمود (جلد 16) — Page 461
خطبات محمود ۴۶۱ سال ۱۹۳۵ء شہدائے افغانستان کی شہادت اس وجہ سے ہوئی کہ وہ جہاد کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے انگریزوں کے خلاف جہاد بالسیف کے قائل نہیں تھے اور اس طرح حکومت افغانستان کو وہ اس حربہ سے محروم کرتے تھے جو ضرورت کے وقت اس کے بچاؤ کا موجب ہوسکتا تھا۔اس کتاب کے دیکھنے کے بعد یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوگئی کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا اصل باعث موجودہ حالات میں انگریزوں سے جہاد کے خلاف تعلیم دینا تھا۔اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لئے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ افغانستان کا درباری تھا اور اس لئے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔اس موقع سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا جوشِ دینی اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ اس تعلیم کے اخفاء کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ اس کا نتیجہ ان کے حق میں کیا نکلے گا۔ورنہ مذہب ہمیں یہ کب تعلیم دیتا ہے کہ ہم جہاد کے متعلق ان لوگوں کے خیالات بھی درست کرتے پھریں جو ہمارے مذہب میں شامل نہیں۔جو ہمارے مذہب میں داخل ہو گا آپ ہی آپ اس کے خیالات بھی درست ہو جائیں گے۔کیا اسلام اس بات پر کوئی اعتراض کرے گا کہ ہم ہندوؤں کو نماز کیوں نہیں سکھاتے ؟ یا انہیں روزوں کے احکام کیوں نہیں بتاتے ؟ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ تفصیلات اسی وقت سکھائی جاتی ہیں جب کوئی انسان جماعت میں داخل ہو جائے پس اس تعلیم کے ماتحت اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔مگر وہ اس بڑھے ہوئے جوش کا شکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا اور وہ اس ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا سمجھے گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔جب انہوں نے قادیان میں آ کر دیکھا کہ جماعت احمدیہ سلطنت برطانیہ کی تعریف کرتی، اسے منصف قرار دیتی اور شرائط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کے خلاف جہاد کو نا جائز بجھتی ہے تو اپنے ملک میں جا کر وہ بھی انگریزوں کی تعریف کرنے لگ گئے اور انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ جہاد جائز نہیں اس وجہ سے انہیں اپنی جان دینی پڑی ورنہ