خطبات محمود (جلد 16) — Page 379
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ایک دوستوں کو بتا یا عام اعلان نہیں کیا۔سوایسی خبروں کے سوا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخفاء کا حکم ہوا نذاری پیشگوئیوں کی اشاعت سے ہم کبھی نہیں رہ سکتے اور نہ ان کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ یہ قتل کی تحریک ہے۔صرف ایک پنڈت لیکھرام کے متعلق یہ پیشگوئی ہے جس کے انسانی ہاتھ سے پورا ہونے کا خیال ہو سکتا ہے مگر اس کے قاتل کو بھی آج تک حکومت گرفتار نہیں کرسکی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تلاشی لی گئی اور بھی کئی احمدیوں کی تلاشی لی گئی مگر کوئی ثبوت نہ مل سکا کیونکہ یہ فعل فرشتہ کا تھا اور اگر انسان کا تھا تو وہ بھی فرشتہ ہی تھا۔انسانی ہاتھوں سے ہلاکت خدا تعالیٰ کی سنت نہیں۔خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ آسمانی عذابوں سے ہلاک کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی دشمن حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ، مولوی محمد حسین بٹالوی کی تذلیل کیپٹن ڈگلس کے ہاتھ سے ہوئی۔کیا اسے بھی انگیخت کی گئی تھی؟ یا مولوی محمد حسین بھی احمدی تھا کہ اس سے ایسی حرکت کرائی گئی ؟ اگر وہ کرسی نہ مانگتا تو تذلیل نہ ہوتی پس یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اس میں کسی کی انگیخت کہاں ہے۔پس ایسی پیشگوئیوں کا کثیر حصہ آسمانی عذاب سے پورا ہوتا ہے اور ان کو انکیت قرار دینا مذ ہب میں صریح دست اندازی ہے اور مذہب کی بنیاد کو مٹانا ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات پیش نہ کریں تو کیا کریں ہم تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں ہی شائع کرتے ہیں۔جو چاہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ملی ہوں یا آپ کے صحابہ کے ذریعہ۔اور ان کے اظہار پر مجبور ہیں۔ان باتوں میں ہم حکومت کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔وہ ہمیں ہندوستان سے نکال سکتی ہے مگر جب تک اللہ تعالیٰ کی اجازت نہ ہو ان خبروں کے شائع کرنے سے روک نہیں سکتی اور اگر کوئی گورنمنٹ جو یہ حکم دے کہ خدا کی نہ مانو ، معقول اور عقلمند نہیں ہوسکتی۔پس انگریزی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ رعایا کے نقطہ نگاہ کو سمجھے۔اگر حکام یہ جانتے کہ ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں فرق ہی یہ ہے کہ ہم زندہ اسلام پیش کرتے ہیں اور ان کا اسلام ایک مُردہ جسم ہے تو وہ کبھی نہ کہتے کہ یقتل کی تحریک کی جاتی ہے۔اگر حکومت ہم سے یہ خواہش رکھے کہ ہم اس زندگی کو مٹا دیں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔اس کی طرف سے ایسا مطالبہ مذہب سے ناواقفیت کی دلیل ہے پس میں حکومت کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مذہب کا مطالعہ بھی ضرور کریں تا جن لوگوں سے ان کا معاملہ ہے ان کے خیالات سے بھی آگاہی ہو، تا انہیں علم ہو کہ پیشگوئی کیا ہوتی ہے اور یہ کہ زندہ نشان کے بغیر ایمان محفوظ نہیں رہ