خطبات محمود (جلد 16) — Page 380
خطبات محمود ۳۸۰ سال ۱۹۳۵ء سکتا اور اگر ایمان محفوظ نہ ہو تو انبیاء کی آمد بے فائدہ ہو جاتی ہے اگر حکام کو ان باتوں کا علم ہوتا تو پیشگوئی کا نام قتل کی انگیخت نہ رکھتے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کو توفیق دے کہ مذہب کو پرکھیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پیدا کر دیا ہے کہ حکام کو ہمارے خیالات معلوم ہو جاتے ہیں۔ایک تو ڈائری نویس خطبہ لکھ کر لے جاتے ہیں جو نیچے سے اوپر تک سب پڑھتے ہیں۔پہلے اس کا انہیں علم بھی نہ ہوتا تھا اسی طرح کتابیں بھی پڑھنے کا انہیں موقع ملتارہتا ہے۔سابق چیف سیکرٹری نے ہمارے ایک دوست سے بیان کیا کہ میں پندرہ روز سے مرزا صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کی کتب پڑھ رہا ہوں۔کسی کو کیا خبر ہے کہ ان میں سے کسی کا دل اللہ تعالیٰ کھول دے اور وہ مسلمان ہو جائے اس لئے میں حکام کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ یہ وقت ہے اور ان کے لئے مناسب ہے کہ مذہب کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ پیشگوئی کیا ہوتی ہے ، انذاری پیشگوئیوں کا کیا مطلب ہوتا ہے اور کہ انذاری پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے پوری ہوتی ہیں تا ان کو پتہ چلے کہ مذہب ان کے بغیر نہیں چل سکتا اور ان میں کسی قسم کی رُکاوٹ پیدا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ مذہب میں مداخلت کی جائے۔اگر یہ قتل کی انگیخت ہے تو ویدوں میں ، بائبل اور قرآن کریم میں یہ بات موجود ہے اور سب انبیاء اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔حکومت پہلے ان سے معاملہ کر لے بعد میں ہم سے کرے کیونکہ ہم تو بعد میں آئے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حکام کے دل کھول دے اور وہ مسلمان ہو جائیں۔آخر ایک دن انہیں مسلمان ہونا ہی ہے۔ہزاروں آدمی ایسے ہیں جو پہلے گالیاں دیا کرتے تھے مگراب مخلص احمدی ہیں اسی طرح یہی حاکم جو آج ہمارے مخالف ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے دل کھول دے تو ہمارے ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے کہ جلسہ کے دنوں میں ایک موقع پر چالیس پچاس آدمی ایک طرف سے آرہے تھے اور چار پانچ دوسری طرف سے۔تھوڑی دیر وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر گلے مل کر چھینیں مار کر رونا شروع کر دیا۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ اس نظارہ کا مجھ پر بہت اثر ہوا اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ بات کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ چار پانچ آدمی ہمارے گاؤں میں پہلے احمد کی ہوئے تھے ہم نے ان کو سخت دُکھ دیئے حتی کہ یہ لوگ وطن چھوڑ کر نکل گئے اور دس بارہ سال تک ہمیں ان کے متعلق کچھ علم نہ ہو سکا بعد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی احمدیت کو قبول کرنے کی توفیق دے دی اور ہم احمدی ہو گئے۔آج پہلی دفعہ یہاں ایک دوسرے سے