خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 346

خطبات محمود ۳۴۶ سال ۱۹۳۵ء اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹھان لوگ رائفل اٹھا لے جانے کے بڑے شائق ہوتے ہیں اس لئے یہ حکم دیا۔گیا ہے کہ بندوق کو ساتھ باندھ رکھو جو بندوق کو اُٹھائے گا ساتھ بندوق والے کو بھی اُٹھائے گا اور وہ جب اُٹھے گا تو بغیر لڑائی کے بندوق اس کے حوالہ نہیں کرے گا۔یہی معنی تقوی کے ہیں انسان دنیا میں شیطانی لشکروں سے گھرا ہوا ہے اور تقویٰ کے ذریعہ مؤمن انسان رائفل ہو جاتا ہے جسے خدا تعالیٰ باندھے رکھتا ہے اسے ہلانے سے اللہ تعالیٰ ہل جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کو ہلائے وہ بچ کر کہاں جا سکتا ہے۔پس نمازیں پڑھو، دعائیں کرو، سچ بولو، فتنہ وفساد سے بچو، لوگوں کے حقوق ادا کرو، بڑوں کا ادب کرو، اور چھوٹوں سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ ، مالی قربانیاں کرو یہ اصل چیز ہے جو تقویٰ کی جان ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور جس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں داخل ہو وہ ساری چیزوں کو بھلا دیتی ہے اور آدمی دیوانہ ہو جاتا ہے اس کی حالت بالکل مجذوب کی سی ہو جاتی ہے کچھ عرصہ ہوا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر الہام ہوا تھا کہ :۔ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا جسے اللہ تعالیٰ کی پیاری نگاہیں نظر آ جائیں اُسے غیر نظر ہی کب آ سکتا ہے۔محبوب کی محبت ایسی زبر دست چیز ہے کہ سب دیگر چیزوں کو پرے ڈال دیتی ہے پھر نہ کوئی مصیبت یا د رہتی ہے اور نہ کوئی رنج ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک نیک عورت تھی جس کا لڑکا بھی بہت نیک تھا ایک دفعہ آپ اس کے گھر علاج کے لئے یا کسی اور وجہ سے گئے تو دیکھا کہ ایک ہی لحاف ہے اور ایک قرآن شریف ہے آپ کو بہت رحم آیا اور آپ نے کہا مائی ! آپ کو بڑی تکلیف ہوتی ہوگی اگر کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ میں پوری کر دوں؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے لحاف بھی ہے اور قرآن شریف بھی ہے۔قرآن شریف دونوں باری باری پڑھ لیتے ہیں اور رات کو سوتے وقت لحاف لے لیتے ہیں جب ایک پہلو سرد ہو جاتا ہے تو دوسرا بدل کر اسے گرم کر لیتے ہیں میں بیٹے سے کہہ دیتی ہوں کہ کروٹ بدل لے بڑی آرام کی زندگی ہے۔دیکھو! کیا محبت ہے۔اس نے سوال کی ضرورت ہی نہ سمجھی تم میں سے کتنے ہیں جو سوال نہیں کرتے پھر کتنے ہیں جو حاجت مند کی طرف سے سوال کا انتظار نہیں کرتے اور خود بخود ہی اسے پورا کر دیتے ہیں۔جس طرح سوال کرنامذموم فعل ہے