خطبات محمود (جلد 16) — Page 345
خطبات محمود ۳۴۵ سال ۱۹۳۵ء نے کہا تھا کہ ہر شخص اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرے اور اگر دوسری میں پڑھنا چاہتا ہو تو اسی حلقہ میں نام بھی لکھوالے اگر اس کے بغیر دوسری مسجد میں جا کر نماز پڑھتا ہے تو وہ قانون کو توڑتا ہے مگر ایسی تبدیلیوں کی مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔کہتے ہیں چو کفر از کعبه برخیزد کجا ماند مسلمانی اگر قادیان کے محلوں کے بعض صدرا اور سیکرٹری بھی صرف چوہدری بننے کے شائق ہوں تو باہر کی جماعتوں کے عہد یداروں سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔یہ بات پیش کرنا کہ ہماری مساجد بھری رہتی ہیں کوئی چیز نہیں۔میں مانتا ہوں کہ دوسروں کے دس فیصدی لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور ہمارے پچانوے فیصدی لیکن اگر ہمارے پانچ آدمی بھی نماز میں سست ہیں تو یہ ہمارے لئے موت کا دن ہے بلکہ اگر ایک بھی ہم میں سے باجماعت نماز ادا نہیں کرتا تو ہمارے لئے موت کا دن ہونا چاہئے۔جو شخص با جماعت نماز ادا نہیں کرتا وہ دوصورتوں سے خالی نہیں یا تو وہ منافق ہے اور ہمارے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا یا پھر پڑھتا ہی نہیں۔اگر منافق نہیں اور گھر پر ہی نماز پڑھتا ہے تو بھی وہ سست ہے ت ہے۔شریعت کا حکم یہی ہے کہ نماز با جماعت ادا کی جائے یہ بڑی ضروری چیز ہے اور اس بارے میں ایک شخص کی کوتاہی بھی بڑی خطرناک ہے لیکن میں جانتا ہوں ایک سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو باجماعت نماز ادا نہیں کرتے لیکن اس کی بہت ساری ذمہ داری پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں پر بھی ہے اگر وہ قواعد کی پابندی کراتے تو یہ حالت نہ ہوتی مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی کوئی رپورٹ نہیں کی۔شروع شروع میں محلہ دار الرحمت نے کچھ انتظام کیا تھا لیکن عرصہ قریب میں ایک محلہ والوں نے بھی کوئی کام نہیں کیا۔وہ لوگ جو ایسے سہاروں کے محتاج ہوں وہ ریت کا تو وہ ہیں قلعہ کی دیوار نہیں کہلا سکتے۔سہارے کی ضرورت صرف ٹوٹی ہوئی دیوار کو ہی ہوتی ہے پس جو سہارے کے محتاج ہیں وہ یا تو ٹوٹی ہوئی دیوار ہیں یا تو دہ ریت۔اپنے اندر تقویٰ، ایسا تقویٰ پیدا کر وجس سے خدا کا جوڑ تمہارے ساتھ ہو جائے۔تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس سے خدا اور بندہ آپس میں پیوست ہو جاتے ہیں اور ایک کو اگر حرکت ہو تو دوسرے کو آپ ہی آپ ہو جاتی ہے۔حکومت انگریزی کا جنگ کے وقت سپاہیوں کے لئے قانون ہے غالباً دوسری حکومتوں کا بھی یہی ہو گا کہ رات کو رائفل سپاہی اپنے جسم کے ساتھ باندھ کرسوئے بالخصوص ان افواج کے لئے جو سرحد میں مقیم ہوں اس قانون کی پابندی سختی سے کی جاتی ہے