خطبات محمود (جلد 16) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷ سال ۱۹۳۵ء سے قبل مارے گئے ان کے لئے بھی نقصان نہیں کیونکہ اگر وہ زندہ رہتے تو ممکن ہے صداقت ان کے سامنے واضح طور پر پیش کی جاتی وہ پھر بھی غافل رہتے اور اس طرح مجرم قرار پاتے۔اصل میں اُن لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو زندہ ہیں جنہوں نے اس عذاب کو دیکھا کیونکہ اگر مرنے والوں سے وہ عبرت حاصل نہیں کرتے اور ان کی موت کو اپنی حیات کا موجب نہیں بناتے اور وہ ہوشیار اور بیدا ر نہیں ہوتے تو پھر یہ بھی خدا تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔پس لوگوں کے اعتراض کی وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کے اس نشان کو چھپانے کیلئے تیار نہیں جو خدا تعالیٰ نے اس وقت ظاہر کیا۔بے شک لوگ کہیں گے یہ ہر چیز بانی سلسلہ احمدیہ پر چسپاں کر دیتے ہیں ، اور بے شک وہ کہیں کہ احمدی لوگوں کی موت پر خوش ہوتے ہیں گو یہ بالکل جھوٹ ہے اور ایسا انسان مفتری ہے جو کہتا ہے کہ ہم لوگوں کی موت پر خوش ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان سے زیادہ رنج اور دکھ پہنچتا ہے لیکن چونکہ اس زلزلہ سے خدا تعالیٰ کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اسے دنیا کے سامنے پیش کریں ورنہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہریں گے، وہ ہم سے پوچھے گا کہ جب میں نے دنیا میں ایک عظیم الشان نشان دکھایا تھا تو تم نے اسے کیوں چھپایا۔پس با وجود اس مخالفت کے جو آج دنیا میں ہماری ہو رہی ہے ہم مجبور ہیں کہ اس نشان کو لوگوں کے سامنے پیش کریں بغیر کسی قسم کے خطرہ اور خوف کے پیش کریں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس نشان کو ضرور بہتوں کی ہدایت کا موجب کرے گا۔آخر خدا تعالیٰ کی چمکا ر ضائع نہیں جا سکتی پھر جس نشان کے متواتر دکھانے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہو یقیناً اس میں لوگوں کے لئے بہت بڑی ہدایت مخفی ہوتی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ زلزلہ نشان تھا تو پھر بعض احمدی اس میں کیوں فوت ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض صحابہ جنگوں میں فوت ہوئے ، جنگوں میں کفار کے مقابلہ میں صحا بہ بھی شہید ہوتے رہے مگر چونکہ ان کی نسبت بہت قلیل ہوتی تھی اس لئے نشان کی صداقت مشتبہ نہیں ہو سکتی تھی اسی طرح زلزلہ کوئٹہ میں ہماری جماعت کے قریباً دس فیصدی لوگ فوت ہوئے ہیں حالانکہ اس کے مقابلہ میں مخالفوں کے گھروں میں نوے فیصدی موتیں ہوئی ہیں پس دوسرے توے فیصدی مرے اور ہم نوے فیصدی بچے یہی حال صحابہ کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا صحا بہ کم مارے جاتے تھے اور مخالف زیادہ مارے جاتے۔