خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 332

خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۵ء دیوانہ وار روتے ہوئے سٹیشنوں پر ادھر اُدھر اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں دوڑے پھرتے ہیں اور جب انہیں اپنا کوئی رشتہ دار نظر نہیں آتا تو ان کے نالہ و بکا سے ماتم بپا ہو جاتا ہے۔ایک اخبار کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا وہ اس طرح سٹیشن پر پھر رہی تھی جس طرح ایک شرابی نشہ میں مدہوش ہو کر لڑھکتا پھرتا ہے۔وہ کبھی دائیں گرتی کبھی بائیں اور روتی ہوئی کہتی سارے ہی مر گئے کوئی بھی نہیں بچا۔بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب مصیبت زدہ لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کوئٹہ کا کیا حال ہے تو وہ جواب دینے کی بجائے چینیں مار کر رو پڑتے ہیں۔پھر کئی آدمی اس صدمہ کی وجہ سے پاگل ہو گئے ہیں۔کوئٹہ سے ملتان کو گاڑی آ رہی تھی کہ راستہ میں دو عور تیں شدت غم کی وجہ سے پاگل ہو گئیں ایک اور شخص بھی دیوانہ ہو گیا اور اس نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔غرض یہ ایسا دردناک نظارہ ہے کہ اس نظارہ کو دیکھنے والے تو کیا پڑھنے والے بھی پڑھ کر حیران ہو جاتے اور ان کے دل کرب و اضطراب سے بھر جاتے ہیں۔اس نظارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ کر غور کر و اس سے کسی وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خدا میں کتنی زبر دست طاقت ہے اور وہ کس طرح ایک سیکنڈ میں ساری دنیا کو ختم کر سکتا ہے۔لوگ دلیلیں مانگتے ہیں اور پوچھا کرتے ہیں قیامت کس طرح آ سکتی ہے۔وہ اپنی قوت فکر کو وسیع کر کے دیکھیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ اسی طرح تمام دنیا پر قیامت آ سکتی ہے۔جس طرح کوئٹہ میں قیامت آ گئی۔جہانگیر کے متعلق مشہور ہے اس نے نور جہاں کو ایک دفعہ دو کبوتر دیئے۔اور کہا انہیں پکڑے رکھنا میں کسی ضروری کام کے لئے جا رہا ہوں۔نور جہاں اُس وقت چھوٹی لڑکی تھی جب وہ واپس آیا تو اُس نے دیکھا کہ نور جہاں کے ہاتھ میں صرف ایک کبوتر ہے دوسرا نہیں۔جہانگیر نے پوچھا دوسرا کبوتر کدھر گیا ؟ نور جہاں نے کہا اُڑ گیا۔جہانگیر نے غصے سے پوچھا کس طرح اُڑ گیا۔اس پر نور جہاں نے اپنا دوسرا ہاتھ جس میں کبوتر پکڑا ہوا تھا کھول دیا اور کہا اس طرح۔نور جہاں جو بات جہانگیر کو بتا سکتی تھی کیا لوگوں کی عقل اس بچی جتنی بھی نہیں کہ وہ لوگ کوئٹہ کے حالات دیکھ اور سن کر سمجھیں قیامت اس طرح آ سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس زلزلہ کے ذریعہ قیامت کی جو دلیل دی ہے نور جہاں نے اسی رنگ میں دی تھی جس طرح اس نے جب اس سے پوچھا گیا کہ کبوتر کس طرح اُڑ گیا ؟ اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کھول کر بتایا کہ اس طرح۔اسی طرح لوگ کہتے تھے قیامت کس طرح آ سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے کوئٹہ میں دکھا دیا ہے کہ اس طرح۔جس جگہ