خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 302

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء حکومت کی مدد سے ہو سکتی ہے اور نہ مسلمانوں کی مدد سے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہوسکتی ہے۔ان باتوں میں ہمارا فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان اگر ہے تو حکومت کا کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود قانون کو نافذ کرا نا نہیں چاہتی۔ابھی ایک مقدمہ اس کی طرف سے چلایا گیا تھا جس کے متعلق وقت آنے پر ہم ثابت کریں گے کہ یہ در اصل ہمارے خلاف تھا اور پولیس اور سول کے بعض افسر ایک خاص مقصد کو مد نظر رکھ کر کام کر رہے تھے یہ اور بات ہے کہ وہ کچھ ثابت نہ کر سکے اور عدالت نے بھی اپنے فیصلہ میں لکھ دیا کہ بہت سی باتیں غلط ہیں۔اس فیصلہ کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ عدالت بھی سمجھتی تھی کہ یہ مقدمہ عطاء اللہ کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے خلاف چلایا گیا ہے مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہر جگہ ہماری بریت کی ہے۔دو ایک جگہ پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ایک کے متعلق تو لکھا ہے کہ یہ اس مقدمہ میں زیر بحث نہیں آسکتا اور ایک بات ایسی ہے جس کے متعلق صحیح ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔ہم تو اس مقدمہ میں ایسے مدعا علیہ تھے جنہیں بولنے کا حق نہ تھا مگر با وجود اس کے اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور عدالت نے قریباً تمام اعتراضات کورڈ کر دیا ہے۔قادیان میں ہماری حکومت بتائی جاتی تھی مگر عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ یہ غلط ہے صرف معمولی جھگڑے جو نا قابل دست اندازی پولیس ہوتے ہیں یہاں طے کرا دئیے جاتے ہیں۔سوائے ایک کے جس میں غلطی لگی ہے۔پھر کہا جاتا تھا کہ تبلیغ تشدد سے کی جاتی ہے مگر عدالت نے لکھا ہے کہ خود ان کے گواہوں اور جماعت احمد یہ کے دشمن گواہوں نے تسلیم کیا ہے کہ تبلیغ میں کوئی سختی نہیں کی جاتی۔ایک مقدمہ قتل تھا اس کے متعلق لکھا ہے کہ ملزم نے خود اس مقدمہ کی مسل داخل نہیں کرائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے حق میں نہیں اگر یہ بات ان کے حق میں تھی تو مسل کیوں پیش نہیں کی گئی بلکہ فیصلہ کے ایک فقرہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید عدالت نے اس فیصلہ کو پڑھا ہے۔اس فیصلہ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ قتل سخت اشتعال کا نتیجہ تھا اسی طرح اور بھی بہت سے امور کے متعلق بھی ہماری بریت کی ہے باوجود یکہ گورنمنٹ نے ہمیں مدعا علیہ بنایا اور ایسی صورت میں کہ ہم کوئی جواب بھی نہ دے سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری بریت عدالت سے کرا دی ہے۔میں یہ نہیں جانتا کہ اس مقدمہ کی کارروائی میں ضلع گورداسپور سے باہر کے حکام بھی شامل تھے یا نہیں اور حسن ظنی سے کام لیتے ہوئے میں یہی کہتا ہوں کہ نہیں تھے لیکن ضلع کے حکام کا ایک طبقہ تو ضرور اس میں شامل تھا بعض گواہیاں بھی اس سلسلہ میں