خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 299

خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۵ء کہنے لگے چونکہ اب ملک میں سیاسی تحریک شروع ہوئی ہے اس لئے آریوں کا رنگ بدل گیا ہے آپ ضرور مضمون لکھیں اس سے اسلام کو بہت فائدہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکراہ کے باوجود اُن کی بات مان لی اور مضمون رقم فرمایا اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا، میں بھی گیا اور بھی بعض دوست گئے تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں سب باتیں محبت اور پیار کی تھیں اس کے بعد ایک آریہ نے مضمون پڑھا جس میں شدید گالیاں رسول کریم ﷺ کو دی گئی تھیں اور وہ تمام گندے اعتراضات کئے گئے تھے جو عیسائی اور آریہ کرتے ہیں مجھے آج تک اپنی اس غفلت پر افسوس ہے میرے ساتھ ایک اور صاحب بیٹھے تھے ٹھیک یاد نہیں کون تھے غالبا اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی یا کوئی اور تھے جب آریہ لیکچرار نے سخت کلامی شروع کی تو میں اُٹھا اور میں نے کہا میں یہ نہیں سن سکتا اور جاتا ہوں مگر اُس شخص نے جو میرے پاس بیٹھا تھا کہا کہ حضرت مولوی صاحب اور دیگر علماء سلسلہ بیٹھے ہیں اگر اُٹھنا مناسب ہوتا تو وہ نہ اُٹھتے۔میں نے کہا اُن کے دل میں جو ہو گا وہ جانتے ہوں گے مگر میں نہیں بیٹھ سکتا مگر اُس نے کہا را ستے سب بند ہیں دروازوں میں لوگ کھڑے ہیں آپ درمیان سے اُٹھ کر گئے تو شور ہو گا اور فساد پیدا ہو گا چپکے بیٹھے رہو۔میں اس کی باتوں میں آ گیا اور بیٹھا رہا مگر مجھے آج تک افسوس ہے کہ جب ایک نیک تحریک میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھی تو میں کیوں نہ اُٹھ آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ سنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو آپ سخت ناراض ہوئے اور سب سے زیادہ ناراض آپ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل پر ہوئے بار بار فرماتے کہ آپ سے مجھے یہ امید نہ تھی کہ رسول کریم ﷺ کو اس طرح گالیاں دی جاتیں اور آپ چکے بیٹھے سنتے رہتے آپ کو چاہئے تھا کہ پروٹسٹ کرتے اور اسی وقت اُٹھ کر آ جاتے ، آپ کی غیرت نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آپ ایک منٹ بھی وہاں بیٹھیں۔غرض آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا شاید جماعت سے خارج کر دیں مولوی محمد احسن صاحب جلسہ میں نہیں گئے تھے مجھے یاد ہے چلتے چلتے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کی تصدیق بھی کرتے جاتے تھے اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا ذہول کا لفظ میں نے اُن سے ہی اُس وقت پہلی دفعہ سنا اور وہ یہ بات بار بار اس طرح کہتے تھے کہ جس سے ہنسی آ جائے۔افسوس کا اظہار بھی کرتے جاتے تھے اور پھر ساتھ