خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ سال ۱۹۳۵ء چاہئے ، غیرت ہونی چاہئے اور ضرور ہونی چاہئے ، غیرت مؤمن سے وہ کام کر لیتی ہے جو دوسرے نہیں کر سکتے مگر غیرت کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ آدمی لڑے یا فساد کرے۔جس طرح پکھرا ہوا پانی کوئی طاقت نہیں رکھتا مگر نہر کا پانی اپنے اندر بہت طاقت رکھتا ہے اسی طرح غیرت کا صحیح استعمال بھی بڑے فوائد اپنے اندر رکھتا ہے۔اور حقیقی غیرت وہی ہوتی ہے۔یہ کیا غیرت ہے کہ گالی کے جواب میں گالی دے دی یا تھپڑ مار دیا۔غیرت یہ ہے کہ کوئی سلسلہ پر اعتراض کرے تو وہاں سے چلے جائیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔پھر غیرت یہ ہے جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ زیادہ زور سے کریں اور اس طرح دشمن کی طاقت کو توڑنے کی کوشش کریں۔گالی کے جواب میں گالی حقیقی غیرت نہیں بلکہ کمزوری کہلائے گی ایسا انسان جو گالی کو برداشت نہیں کر سکتا اور لڑ پڑتا ہے ، ہم اسے مجرم تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کا فعل جوابی ہے ، مجرم وہی ہے جو ابتدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود جوابی طور پر سختی بھی جب تک کسی خاص غرض کے ماتحت نہ ہو جیسے انبیاء کرتے ہیں ان کے پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوتے ہیں اخلاق کا ادنی درجہ کہلائے گی۔اول تو سوال یہ ہے کہ جہاں گالیاں دی جاتی ہیں وہاں انسان جائے ہی کیوں۔یہاں مخالف لوگ تقریر میں کرتے ہیں اور بعض احمدی سننے چلے جاتے ہیں ان کا وہاں جانا ہی بتا تا ہے کہ وہ حقیقی غیرت کے مقام پر نہیں ہیں۔کیا کبھی کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ فلاں مقام پر میرے باپ کو گالیاں دی جا رہی ہیں میں جا کر سن آؤں یا کوئی کسی کو اطلاع دے کہ فلاں جگہ تمہاری ماں کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور وہ جھٹ جوتا ہاتھ میں پکڑ کر بھاگ اٹھے کہ سنوں کیسی چٹخارے دار گالیاں دی جاتی ہیں اگر تمہارے اندر حقیقی غیرت ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام یا اپنے امام اور دوسرے بزرگوں کے متعلق گالیاں سننے کے لئے جاتے ہی کیوں ہو۔تمہارا وہاں جانا بتا تا ہے کہ تمہارے اندر غیرت نہیں یا ادنیٰ درجہ کی غیرت ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آریوں نے لاہور میں ایک جلسہ کیا اور آپ سے خواہش کی کہ آپ بھی مضمون لکھیں جو وہاں پڑھا جائے آپ نے فرمایا ہم ان لوگوں کی عادت کو جانتے ہیں یہ ضرور گالیاں دیں گے اس لئے ہم ان کے کسی جلسہ میں حصہ نہیں لیتے۔مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور لاہور کے بعض دوسرے لوگ جن کی خوشامد وغیرہ کر کے آریوں نے انہیں آمادہ کر لیا ہوا تھا