خطبات محمود (جلد 16) — Page 287
خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۵ء گھبرا جاتا ہے یا کفر کے فتوے پر ان کا شور مچان فتنہ پردازی ہے۔کیا شیعہ سنیوں کو اور سنی شیعوں کو کافر نہیں کہتے۔کیا اہل حدیث حنفیوں کو اور حنفی اہل حدیث کو کا فرنہیں کہتے کیا چکڑالوی غیر چکڑالویوں کو اور غیر چکڑالوی چکڑالویوں کو کا فرنہیں کہتے۔چکڑالوی تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن مجید منسوخ کر دیا پھر قرآن مجید کو منسوخ کرنے کے بعد اسلام کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔اسی طرح غیر چکڑالوی کہتے ہیں کہ چکڑالویوں نے رسول کریم ع کی ہتک کر دی اور سول کریم ﷺ کی توہین کرنے کے بعد کوئی شخص کب مسلمان کہلا سکتا ہے۔پس کفر کی اس گرد و غبار میں اگر ہم نے بھی تھوڑی سی گردا ڈالی تو اس میں بات ہی کون سی ہوئی جس پر انہیں اتنا غصہ آیا۔سوائے اس کے کہ بھیڑیے اور بکری والی بات سمجھی جائے۔کہتے ہیں کوئی بھیڑ یا اور بکری ایک نالے سے پانی پی رہے تھے۔بکری پانی کے بہاؤ کی طرف تھی اور بھیٹر یا اوپر کی طرف۔بھیڑیے کا بکری کو مارنے کو دل جو چاہا تو غصہ سے بکری کو کہنے لگا۔تجھے شرم نہیں آتی ، ہم پانی پی رہے ہیں اور تو پانی گدلا کر رہی ہے۔وہ کہنے لگی حضور آپ اوپر کی طرف ہیں اور میں پانی کے بہاؤ کی طرف ہوں اگر پانی گدلا ہو بھی تو آپ کی طرف نہیں جا سکتا۔بھیڑیے نے یہ جواب سنتے ہی بڑھ کر اس کی گردن پکڑ لی اور کہا اچھا تو گستاخی کرتی اور ہماری بات کا جواب دیتی ہے۔تو یہ اور بات ہے کہ وہ اس غرور اور گھمنڈ میں کہ وہ تعداد میں ہم سے زیادہ ہیں ہمیں کہہ لیں کہ تم دوسروں کو کافر کہتے ہو اس لئے تم مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ورنہ دس دس ہیں ہیں ، تمیں تھیں، چالیس چالیس، پچاس پچاس بلکہ ہزار ہزار علماء کی طرف سے کفر کے فتووں کے مرضع شجرے چھاپے جاچکے ہیں۔جنہیں زینت کے طور پر انسان اگر چاہے تو اپنے گھروں میں لٹکا سکتا ہے مگر وہ تمام کفر کے فتوے دیکھنے کے باوجود ان آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندوں کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی اور نہ غیرت جوش دلاتی ہے۔پس یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ہم ہی انہیں کا فر کہتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ جرم ہے جو ان کے گھروں میں ہم سے بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔باقی ہم میں اور ان میں تو کفر کی تعریف میں اختلاف بھی بہت سا پایا جاتا ہے۔یہ لوگ کفر کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا انکار حالانکہ ہم یہ معنی نہیں کرتے اور نہ کفر کی یہ تعریف کرتے ہیں۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ اسلام کے ایک حد تک پائے جانے کے بعد انسان مسلمان کے نام سے پکارے جانے کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے لیکن جب وہ اس مقام سے بھی نیچے گر جاتا ہے تو گو وہ مسلمان کہلا سکتا ہے