خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 270

خطبات محمود ۲۷۰ سال ۱۹۳۵ء دیئے ، زمینیں نہیں دیں ، مربعے نہیں دیئے، بادشاہتیں نہیں دیں اور اگر لوگ ہم سے پوچھیں کہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ لوگوں کو کیا دیا تو ہم سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ہمیں خدا دے دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقع میں ہمیں خدا مل گیا۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا بلکہ رؤیا کیا وہ ایک کشف کی سی حالت تھی میں اسے بیان بھی کر چکا ہوں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہے اور میں اس سے چمٹا چلا جاتا ہوں اور یہ کہتا جا تا ہوں ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہیں تیغ تیز کی طرح ہوتی ہیں جس کے دیکھنے سے باقی تمام جھگڑے کٹ جاتے ہیں۔یہی اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مؤمن کا دماغ ایسے زیتون سے روشن ہوتا ہے کہ اس کے متعلق شرقی غربی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے دل میں وہ تیل جل رہا ہو جو لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ کا مصداق ہو وہ قومیتوں اور امتیازات کو مٹا دیتا ہے لیکن وہ شخص جس کے دل میں قومیت اور ملکی رسوم و رواج کا دخل ہو ، اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس کے دل میں ابھی وہ نور روشن نہیں ہوا جو خدا تعالیٰ ہر مومن کے دل میں روشن کرنا چاہتا ہے۔پس مٹادو ان تمام خیالات کو اور یہ سمجھنے لگ جاؤ کہ ہم احمدی ہیں اور احمدی بھی ہم باقی دنیا سے امتیاز کرنے کے لئے اپنے آپ کو کہتے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم تو عباد اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے خادم ہیں اور اگر کوئی ہم سے پوچھے تو دراصل ہمارا نام عبد اللہ ہے۔پس جب ہم اللہ تعالیٰ کے غلام ٹھہرے تو غلاموں میں بھلا کیا امتیاز ہو ا کرتا ہے ، غلام کو تو جہاں مقرر کیا جائے اس کا فرض ہے کہ وہ وہاں کام کرے اگر غلام کہلاتے ہوئے کوئی شخص جھگڑے تو اسے کون حقیقی غلام کہہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک لطیفہ سنا ہوا ہے جو شاید مقامات حریری یا کسی اور کتاب کا قصہ ہے آپ فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان کسی جگہ نہانے کے لئے گیا حمام کے مالک نے مختلف غلاموں کو خدمت کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت مالک موجود نہ تھا جب وہ نہانے کے لئے حمام میں داخل ہوا تو تمام غلام اسے آ کر چمٹ گئے اور چونکہ سر کو آسانی سے ملا جا سکتا ہے اس لئے یکدم سب سر پر آ گرے، ایک کہے یہ میرا سر ہے ، دوسرا کہے یہ میرا سر ہے ، اس پر آپس میں لڑائی شروع ہوگئی اور ایک نے