خطبات محمود (جلد 16) — Page 269
خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۵ء امتیازات اس طرح بھول جائیں کہ ہمیں کبھی یاد بھی نہ آئیں۔لطیفہ مشہور ہے کہ لکھنؤ کا ایک سیڈ اور دہلی کا ایک مغل کسی سٹیشن پر اکٹھے ہو گئے مغل اپنی بادشاہت کے گھمنڈ میں تھا اور سید اس گھمنڈ میں کہ میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔پھر لکھنؤ اور دہلی والوں کے تہذیب و شائستگی کے دعوے ایک طرف تھے۔ریل آئی تو ایک کہے مرزا صاحب آپ پہلے تشریف رکھیں اور وہ کہے کہ سید صاحب آپ تشریف رکھیں اب جھک جھک کر سلام ہو رہے ہیں ایک کہتا ہے آپ چلئے دوسرا کہتا ہے آپ چلئے اتنے میں ریل نے سیٹی دی وہ چل پڑی اب سید مغل کو دھکا دے کر آپ بیٹھنا چاہے ، اور مغل سید کو دھکا دے کر آپ بیٹھنا چاہے تو تکلفات سے کام انسان اسی وقت لیتا ہے جب انسان کے دماغ میں آرام کے خیالات ہوں لیکن جب آگ لگ جاتی ہے تو اس وقت کب انسان معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا کرتا ہے ہزار ہا واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ لوگ سینما دیکھنے کے لئے گئے اور وہاں آگ لگ گئی تو مائیں اپنے بچوں کو روندتے ہوئے گزر گئیں۔غرض جب مصیبت سامنے ہو تو اس وقت نہ محبت کے امتیاز قائم رہتے ہیں اور نہ دشمنی کے امتیاز نظر آتے ہیں اگر ایک سینما، ایک دعوت گھر اور ایک سٹیشن میں آگ لگ جانے کی وجہ سے تمام ظاہری امتیازات مٹ جاتے ہیں تو دنیا میں ہماری مخالفت میں جب اتنی بڑی آگ لگی ہوئی ہے جس کی نظیر نہیں ، جب ہم پر وہ بوجھ لادا گیا ہے جس سے کمریں جھکی چلی جارہی ہیں ، اس وقت یہ جھگڑا کرنا کہ فلاں پریذیڈنٹ کیوں بنا فلاں بننا چاہئے یا فلاں امیر کیوں ہؤا فلاں ہونا چاہئے ، ایسی ذلیل باتیں ہیں جنہیں سن کر مجھے پسینہ آ جاتا ہے اور مجھے حیرت آتی ہے کہ کیا احمدیت نے جو غیر ہم میں پیدا کرنا چاہا تھا وہ اب تک ہم میں پیدا نہیں ہوا جب ایک مقصود ہمارے سامنے ہوتا ہے اس وقت باقی چیزیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں کسی شاعر نے کہا ہے۔جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے اس کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ ہمیں نظر آ جائے تو پھر اور کون ہے جسے انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہو یہی چیز ہے جسے ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ورنہ اس کے سوا اور کیا چیز ہے جو ہم دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مبعوث ہو کر ہمیں کیا دیا ہے آپ نے ہمیں عہدے نہیں