خطبات محمود (جلد 16) — Page 266
خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۵ء کشتیوں پر پاؤں رکھنے والا کام نہیں کیا کرتا بلکہ یا تو وہ غرق ہو جاتا ہے یا چر جاتا ہے۔اگر ہم بھی اپنے دل میں یہی خیال رکھیں کہ ہم پٹھان ہیں یا ہم عرب ہیں یا ہم انگریز ہیں یا ہم ہندوستانی ہیں یا ہم جرمن ہیں یا چینی ہیں یا ہم جاپانی ہیں تو یقیناً اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم کچھ بھی نہیں اور ہم ایسی مخلوق ہیں جس نے نور کو تو دیکھا مگر نور کو دیکھ کر اس کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔یہی سورج روشنی دیتا ہے اور یہی سورج اندھا بھی کرتا ہے۔کئی بیوقوف لوگ جب کئی کئی گھنٹے متواتر سورج کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں تو وہ اپنی آنکھوں کو ضائع کر لیتے ہیں۔پس نور ضروری نہیں کہ روشنی بخشے بلکہ وہ اندھا بھی کر دیا کرتا ہے اس صورت میں ہم سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ کا نور تو آیا اور ہم نے اسے دیکھا مگر وہ ہمیں اندھا کر گیا اور ہم نے اس سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا۔پس اس موقع پر جب کہ آج ہم میں بنگالی بھی موجود ہیں ، ساؤتھ انڈیا کے لوگ بھی موجود ہیں ، بمبئی ، یو پی ، بہار، افغانستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں کے لوگ بھی آئے ہوئے ہیں اور یوں بھی ہمارے اندر ہمیشہ سماٹرا اور جاوا وغیرہ کے لوگ رہتے ہیں ، جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے اندر سے اس قسم کے امتیازات مٹ جانے چاہئیں۔مجھے خصوصیت سے یہ اس لئے خیال پیدا ہوا ہے کہ بعض تازہ واقعات نے مجھے ادھر متوجہ کر دیا ہے دو صوبے ایسے ہیں جن میں بدقسمتی سے ہمیشہ سے یہ سوال رہتا ہے ، ایک صوبہ بنگال اور دوسرا صوبہ سرحد، میں اس وقت نہ بنگالیوں کو الزام دیتا ہوں اور نہ سرحد یوں پر الزام لگا تا ہوں مجھے اس سے غرض نہیں کہ کون مجرم ہے اور کون نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کسی دل میں جب تک یہ خیال ہو کہ ہم سرحدی ہیں اور ہم پنجابی ، اس وقت تک احمدیت اس دل میں جمع نہیں ہو سکتی اور جب کبھی میرے سامنے ایسا سوال آیا ہے میں نے اس کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔میں تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کبھی پنجابی نہیں سمجھتا اور میں سمجھتا ہوں کہ جب ایک انسان اسلام قبول کرتا ہے اس وقت وہ تمام امتیازات کو مٹا کر اپنے آپ کو صرف مؤمن سمجھتا ہے۔ہم اس وقت دائرہ سیاست کے لحاظ سے اور اس وجہ سے کہ گورنمنٹ کا قانون ہمیں وسعت نہیں دیتا صرف ہندوستان کی بہتری کی تجاویز سوچتے ہیں ورنہ جس دن احمدیت کا زور چلے گا وہ ان تمام امتیازات کو مٹا دے گی ، اس سوال کو کہ ہندوستانی کون ہے اور چینی کون ، جاپانی کون ہے اور جرمن کون ، یہ وہ منزل مقصود ہے جس کو پانے کے لئے ہر سچا احمدی کوشش کرتا رہے گا اور اگر ہم اس مقصود کو حاصل نہ کر سکیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ہم نے اپنے