خطبات محمود (جلد 16) — Page 243
خطبات محمود ۲۴۳ سال ۱۹۳۵ء اس لئے کہ وہ وفات مسیح اور صداقت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تقریریں کرتے ہیں یہ ایکٹ لگا تا ہے میں نہیں سمجھتا اس نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا۔میرے نزدیک قانون کا منشاء ہرگز یہ نہیں۔جب ہم نے یعنی ہمارے نمائندوں نے اس کی تائید میں ووٹ دیئے تو یقینا یہ سمجھ کر نہیں دیئے تھے کہ اس کا استعمال اس طرح کیا جائے گا اور جب حکومت نے ووٹ مانگے تو اس لئے نہیں مانگے تھے کہ اس طرح اس کا استعمال کیا جا سکے اگر حکومت اُس وقت بتا دیتی کہ اس ایکٹ کا استعمال بچوں کی ایسی مجالس پر کیا جائے گا جن میں وفات مسیح اور صداقتِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تقریریں کی جاتی ہیں تو میں سمجھتا ہوں گو بزدل ممبر بھی ہوتے ہیں مگر کوئی ہندوستانی ممبر ایسا بے غیرت نہ ہوتا کہ اس کے حق میں ووٹ دے دیتا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں حکومت کے کسی رکن کے اپنے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس کا استعمال اس طرح کیا جائے گا اور نہ ہی اب حکومت پنجاب یا حکومت ہند کے کسی رکن کے ذہن میں یہ بات ہو سکتی ہے کہ اس کا اس طرح استعمال کیا جائے گا۔مجھے یقین ہے کہ انگلستان کی پانچ کروڑ آبادی میں سے ایک فرد بھی اسے جائز سمجھنے والا نہ ہوگا بلکہ انسانیت کی نیکی اور اس کے جو ہر کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ دنیا بھر کے شرفاء میں سے کسی ایک کو بھی کبھی یہ خیال نہیں ہوسکتا کہ اس کا یہ استعمال صحیح ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس ایکٹ کو اس جگہ استعمال کرنے والے نے اسے کس طرح استعمال کیا ممکن ہے اسے دھوکا دیا گیا ہو یا ڈرایا گیا ہو کیونکہ میں یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ اس نے اس ایکٹ کا اس طرح استعمال درست سمجھ کر کیا لیکن اگر واقعی اس نے صحیح سمجھ کر کیا ہوتو میں سوائے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے اور کیا کہ سکتا ہوں۔جب یہ امر واقعہ ہے کہ احرار کی پرائیویٹ میٹنگوں اور کانگرس کی میٹنگوں پر اس ایکٹ کا اس طرح استعمال نہیں کیا جاتا حالانکہ وہ کھلے بندوں حکومت کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر جماعت احمد یہ جو وفا دار جماعت ہے اور جو حکومت کی خاطر بیش بہا قربانیاں کر چکی ہے اس کے بچوں کی ایک مذہبی میٹنگ پر اس ایکٹ کے استعمال کئے جانے کا علم ہونے کے بعد بھی اگر حکومت یہ کہے کہ یہ ٹھیک کیا گیا ہے تو میں سمجھوں گا حکومت کا مطلب یہ ہے کہ احمدی قادیان چھوڑ کر چلے جائیں ہم جائیں یا نہ جائیں یہ علیحدہ بات ہے یہ ہمارا کام ہے کہ دیکھیں جانا چاہئے یا نہیں لیکن ابھی تک مجھے یقین نہیں کہ حکومت کو اس کا رروائی کا علم ہو۔ہاں اب اس خطبہ کے ذریعہ اسے علم ہو جائے گا اور ہم دیکھیں گے وہ کیا ایکشن لیتی ہے۔ایسا