خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 242

خطبات محمود ۲۴۲ سال ۱۹۳۵ء بیان بھی نہیں کر سکتے اور برداشت بھی نہیں کر سکتے تھے بجائے اس کے کہ جا کر کہتے تقریر میں عربی میں تھیں اس لئے سمجھ نہ سکے وہ شرارت بھی کر سکتے تھے کہ زبانوں میں تو فرق ہوتا ہی ہے اور ایک زبان کے بعض اچھے بھلے لفظوں کا دوسری زبان میں جا کر مفہوم بدل جاتا ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کسی نے دوسرے سے خط لکھ دینے کے لئے کہا وہ صرف ہندی جانتا تھا اس لئے اس نے کہا میں ہندی میں خط لکھ دیتا ہوں لکھوانے والے نے پنجابی میں لکھوایا کہ قطب الدین گھر دی کڑیاں ویچ کے اجمیر گیا اب ہندی میں ق تو ہوتا نہیں نہ ہی طہوتی ہے اس لئے ہندی میں لکھا ہو اخط جب منزل مقصود پر پہنچا اور خط والے نے کسی ہندی دان سے خط پڑھوایا تو اُس نے یوں پڑھا کتا بے دین گھر دی گڑیاں ویچ کے آج مر گیا۔اس لئے ممکن تھا کہ عربی کے بعض الفاظ کو وہ خواہ مخواہ گالیاں بنا کر پیش کر دیتے اس لئے ان طلباء کا لطیفہ تو قابل داد ہے میں ان کی ذہانت کی داد دیتا ہوں مگر سمجھ کی داد نہیں دے سکتا ان کو چاہئے تھا کہ وہ پروٹسٹ کرتے اور ریز و لیوشن پاس کر کے جلسہ کو بند کر دیتے۔اگر حکومت چاہتی ہے کہ ہمارے بچے مذہبی تعلیم حاصل نہ کریں تو وہ نہ کریں گے ہم ان کو تعلیم کے لئے دوسرے ملکوں میں بھیج دیں گے۔فارسی میں ضرب المثل ہے کہ ” پائے گد النگ نیست ملک خدا تنگ نیست اگر حکومت کہتی ہے کہ مذہبی تعلیم نہ دو تو ہم اس ملک کو چھوڑ جائیں گے۔جس کے پاس زور ہو وہ تو ڈرا لیتا ہے اور رُعب دے لیتا ہے مگر جس کے پاس طاقت نہ ہو وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ اچھا تجھ سے اللہ تعالیٰ سمجھے ہم جاتے ہیں اگر اس ایکٹ کو اسی طرح استعمال کیا جانے لگا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم تمام مدر سے بند کر کے اور مکانوں کو مقفل کر کے قادیان سے نکل جائیں اور لاہور یا کسی اور جگہ جار ہیں۔بہر حال طلباء کو چاہئے تھا کہ ریزولیوشن پاس کر کے حکومت کو بھیج دیتے اگر تو وہ تو جہ کرتی تو فبہا اور اگر گزشتہ سلوک کی طرح کوئی توجہ نہ کرتی اور جلسے بند کرنے کی ہدایت کرتی تو کر دیتے۔میں خوش ہوں گا اگر حکومت بتائے کہ احرار کی کسی میٹنگ پر بھی اس کی طرف سے کبھی اس ایکٹ کو استعمال کیا گیا ہے حالانکہ وہ على الاعلان کہتے ہیں کہ ہم حکومت کو تباہ کر دیں گے ہم تو کہتے ہیں کہ ہم حکومت کے وفادار اور قانون کے پابند ہیں اور احرار کا دعوی ہے کہ ہم مصلحتا قانون کو مانتے ہیں ورنہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ جب موقع ملے حکومت کو تباہ کر دیں۔یہ ایکٹ جن لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا گو احرار کا عمل اس وقت نہیں مگر قول ان کے مطابق ہے مگر ہمارا نہ یہ قول ہے اور نہ عمل۔پس جو شخص ہمارے بچوں پر