خطبات محمود (جلد 16) — Page 241
خطبات محمود ۲۴۱ سال ۱۹۳۵ء والسلام پر تقریر میں ہونے والی تھیں اس پر ۱۲ آدمی جن میں کئی پولیس کے افسر اور نمبر دار وغیرہ کو شہادت کے لئے لے جانا کہ دیکھیں احمدی بچے صداقت مسیح موعود پر لیکچر دے کر حکومت کو الٹنے کے لئے کیا پروگرام بناتے ہیں یا وفات مسیح کی تقریریں کرتے ہوئے حکومت کے خلاف کیا کارروائیاں کرتے ہیں، ایک ایسا غیر منصفانہ فعل ہے جس کے متعلق میں جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا۔پہلے میں صرف اس کا ذکر کر کے اسے حکومت تک پہنچاتا ہوں کہ یہ ایک پرائیویٹ میٹنگ تھی جس میں صرف ممبر بلائے گئے تھے اور صرف نوٹس ملنے کے بعد دس بارہ لڑکے طالب علم ڈر کی وجہ سے سیکرٹری نے بلوا لئے تھے حکومت بتائے کہ کیا کبھی احرار کی کسی میٹنگ کے متعلق بھی ایسا کیا گیا ہے۔لڑکوں کو جو سوجھتی ہے عجیب سوجھتی ہے جب پولیس گئی تو کئی بچے تو ڈر کر بھاگ گئے دوسروں نے کہا کہ جب ہم اپنے رشتہ داروں کے سامنے تقریریں نہیں کر سکتے تو ان لوگوں کے سامنے کس طرح کر سکتے ہیں اور انہوں نے تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر بچوں نے جو کیا وہ نہیں کرنا چاہئے تھا مگر بچے تھے میں کیا کہوں۔ان کو چاہئے تھا کہ اُسی وقت کھڑے ہو جاتے اور پروٹسٹ (protest) کے طور پر ریزولیوشن پاس کر کے جلسہ ختم کر دیتے کہ اس طرح بچوں کو ستایا جاتا اور ان کی مشقی تعلیم کو روکا جاتا ہے ہم اس کے خلاف پروٹسٹ کر کے جلسہ کو برخاست کرتے ہیں لیکن بچے جہاں بے وقوف اور بے سمجھ ہوتے ہیں وہاں ذہین بھی کمال کے ہوتے ہیں اور جب دق کرنے پر آئیں تو بہت سخت دق کرتے ہیں پس انہوں نے جو کچھ کیا اس کے لئے میں ان کی ذہانت کی تو داد دیتا ہوں مگر پسند نہیں کرتا۔انہوں نے بعض بڑی جماعت کے طلباء کو بلا کر کھڑا کر دیا کہ عربی میں تقریریں کریں اب عربی میں تقریر میں ہو رہی ہیں اور بیچارے پولیس والے بیٹھے ہیں۔پولیس کے علاوہ ارد گرد کے دیہات کے نمبر دار تھے وہ بھلا کیا سمجھیں جو اردو کی تقریروں کو بھی نہ سمجھ سکیں وہ عربی تقریر کو کیا سمجھ سکتے۔میرے نزدیک طلباء کا یہ طریق تھا تو غلط کیونکہ پولیس والوں کو شرارت کا موقع مل سکتا تھا۔جو پولیس کے آدمی وہاں بھیجے گئے اُن کو میں جانتا تو نہیں ہاں ایک کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ وہ سلسلہ کا شدید دشمن ہے اور ہمارے متعلق اس کی رپورٹیں اکثر غلط ہوتی ہیں بہر حال پولیس کے جو آدمی گئے ان کا تو کوئی قصور نہ تھا وہ مجسٹریٹ کے حکم کے پابند تھے اس لئے میں ان کو بیچارہ ہی کہتا ہوں وہ بیچارے بھی وہاں حیران بیٹھے ہوں گے کہ ہم کہاں پھنس گئے۔بہر حال ان میں سے کوئی شریر یہ کہہ سکتا تھا کہ وہاں اتنی گالیاں دی گئی ہیں کہ ہم