خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۵ء نمونہ ملنے کے باوجود پھر ظاہری آن بان والوں کی نقل کرنی شروع کر دیتے ہیں۔محمد ﷺ کے نمونہ پر جب ایک عرصہ گزر گیا اور لوگوں کی نظروں سے آپ کا اُسوہ اوجھل ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم ﷺ کا بروز بنایا گیا۔الله اس وجہ سے آپ کے اُسوہ پر چلنا آپ کی نقل نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی ہی نقل ہے پس رسول کریم ﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔اصلی بھی اور بروزی بھی لیکن کمزور لوگ پھر بھی دوسرے رستوں پر چل پڑتے ہیں۔میں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو بتایا ہے کہ تم دوسری قوموں کی نقل نہ کرومگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت پھر بھی احتیاط نہیں کرتی۔میں نے دیکھا ہے جب میں کسی راستہ سے گزر رہا ہوں تو آگے ہٹو ہٹو ، راستہ دو، کی آوازیں بلند ہوتی جاتی ہیں معلوم ہوتا ہے ان لوگوں نے کسی نواب یا حاکم کو چلتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی نقل کرنی شروع کر دی مگر ہر چیز ہر ایک کو سجا نہیں کرتی۔اگر ایک چھوٹے سے سر والے آدمی پر ایک بڑے سر والے کا کلاہ رکھ دیا جائے تو اسے اچھا نہیں بلکہ بد نما معلوم ہو گا اور اس سے اس کی عزت نہیں بڑھے گی بلکہ ذلت ہوگی اور لوگ تمسخر کریں گے اسی طرح نبیوں کے تابعین کا لباس اگر دنیا داروں کو پہنا دیا جائے یا دنیا داروں کا لباس نبیوں کے تابعین کو پہنا دیا جائے تو یہ بھی بُرا معلوم ہوتا ہے اور یہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ایک مضبوط ڈیل ڈول والے آدمی کو چار پانچ برس کے بچے کا لباس پہنا دیا جائے۔وہ آدمی اگر بچے کی قمیص اپنے جسم پر پہننے لگے گا تو اس کی باہیں پھٹ جائیں گی اور گرتا گلے میں لٹک کر رہ جائے گا ، پاجامہ پہنے گا تو اول تو وہ پھٹ جائے گا اور اگر کچھ کھلا بھی ہوتب بھی جانکھیے سے چھوٹا ہو گا، نیچے سے لاتیں اور اوپر سے دھڑ نگا رہے گا اور معمولی سا کپڑا گلے اور لاتوں میں پھنسا ہوا نظر آئے گا جسے دیکھ کر ہر کوئی نفرت کرے گا اور ہنسے گا۔یہی حال انبیاء کی جماعتوں اور دنیا داروں کا ہوتا ہے انبیاء کی جماعتیں دیو کی طرح ہوتی ہیں اور دنیا داروں کی جماعتیں چھوٹے بچے کی طرح جس طرح ایک بڑی عمر والا آدمی چھوٹے بچے کا لباس پہن کر مضحکہ خیز صورت اختیار کر لیتا ہے اسی طرح تم دنیا کی اور قوموں کی نقل کر کے اپنے سلسلہ کولوگوں کے لئے سُخریہ سے بناتے ہو۔جہاں کی مٹی ہو و ہیں لگا کرتی ہے جو خدا تعالیٰ کی چیزیں