خطبات محمود (جلد 16) — Page 199
خطبات محمود ۱۹۹ سال ۱۹۳۵ء 6 بلکہ خدا تعالیٰ کو مانتا ہے۔اس لئے فرماتا ہے فَاسْعَوا إلى ذِكْرِ اللهِ۔اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو یہ معنی نہیں کہ بندے کی اطاعت کرو۔بندہ آخر کتنے سال جئے گا ؟ دس ، پندرہ ، ہمیں تمہیں سال کے بعد آخر فوت ہو جاتا ہے۔ان چند سالوں میں اسکی اطاعت کے لئے کتنا موقع مل سکتا ہے یا فرض کرو ایک شخص کو نبی کی وفات سے صرف دس دن قبل اس کی آواز پہنچتی ہے اور وہ اسے مان لیتا ہے تو وہ ان دس دنوں میں کونسا پہاڑ گرا دیگا آخر ا سے ذکر اللہ کی طرف ہی آنا پڑے گا۔رسول کریم ﷺ کے متعلق ہی دیکھ لو آپ کو وفات پائے اب کئی سو برس گزر گئے مگر ہم جو اطاعت کرتے ہیں تو اس سے آپ کو کونسا نفع پہنچاتے ہیں۔ساڑھے تیرہ سو برس گزر گئے مگر ہر شخص جانتا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی ذاتی اطاعت نہیں بلکہ خدا تعالٰی کے احکام کی اطاعت کر رہے ہیں اور اسی کی کتاب کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔محمد ﷺ کو اس سے کیا فائدہ کہ ہم نمازیں پڑھیں ، روزے رکھیں اور زکوۃ دیں یہ تمام باتیں ہمارے فائدے کے لئے ہی ہیں۔تو انبیاء کی اطاعت در حقیقت اللہ تعالی کی اطاعت ہوتی ہے اور اس جگہ اللہ تعالی یہی فرماتا ہے کہ یہ سوال فضول ہے کہ ہم فلاں شخص کی بات کیوں مانیں۔فَاسْعَوا الی ذکر اللہ تمہیں چاہئے کہ تم ذکر اللہ کی طرف دوڑو۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ جاؤ اور مسجد میں پہنچو تو کیا ہمارا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جاؤ اور ملا کی خدمت کر دیا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ ملا چونکہ ہماری باتیں سنا رہا ہے اس لئے سنو۔اسی طرح جب دنیا میں کوئی مامور آتا ہے اور ہم حکم دیتے ہیں کہ جاؤ اور اُس کی اطاعت کرو تو اس کی اطاعت سے اُس کو ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی عظمت ہوتی ہے اس لحاظ سے جو کلام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ضروری ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں۔چاہے وہ محمد ﷺ کے ذریعہ آئے اور چاہے مسیح موعود کی معرفت آئے کیونکہ یہ ان کی اطاعت نہیں ہوگی بلکہ خدا تعالیٰ کی اطاعت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا کلام کہیں سے آ جائے ہمارا فرض ہے کہ ہم اُسے سنیں اور اس پر عمل کریں۔اگر ایک دیوار سے بھی خدا تعالی کی آواز آئے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اسے اسی نگاہ سے دیکھیں جس نگاہ سے ایک نبی کی بات کو دیکھا جاتا ہے۔وَذَرُوا الْبَيْعَ اور تمام وہ کام چھوڑ دو جن سے دُنیوی نفع کی امید کی جاسکتی ہے۔اس میں صرف تجارت یا مزدوری ہی داخل نہیں بلکہ ملازمتیں بھی اس میں شامل ہیں۔نوکری میں کیا ہوتا ہے نو کر کہتا ہے تم اتنا روپیہ مجھے دو اور میرا اتنا وقت اور اتنی طاقتیں تم لے لو۔یہی مزدوری میں ہوتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ تاجر دوسرے