خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۵ء وہ زیادہ ثواب کے مستحق ہو نگے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جمعہ کی نماز تمہارے سامنے ہے اس کے احکام تمہیں معلوم ہیں، تم جانتے ہو کہ اگر ایک معمولی خطیب بھی کھڑا ہو تو اس وقت تمہیں حکم ہے کہ جاؤ اور اس کی باتوں کو سنو پھر اگر محمد مال اللہ اور قرآن مجید پر ایمان لانا ایک ملا کے خطبہ سے انسان کو مستغنی نہیں کر سکتا بلکہ حکم ہوتا ہے کہ جاؤ اور اُسکی باتیں سنو تو تم کس طرح امید کر سکتے ہو کہ جب ساتھ میں ہزار سال کا خطیب آئے تو تم یہ کہہ کر خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ جاؤ کہ ہم جب قرآن مانتے اور محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں اسکی آواز پر کان دھرنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر جمعہ کے دن ملانوں کے خطبہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جاؤ اور انہیں سنو تو کیا خدا تعالیٰ کا ماً موراتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا کہ تم اس کی طرف متوجہ ہو اور یہ کہتے رہو کہ جب ہم قرآن کو مانتے ہیں تو کسی اور کی کیا ضرورت ہے۔پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ امر بیان فرمایا ہے کہ اے قرآن کے ماننے والو! تم جمعہ کا خطبہ کیوں سنتے ہو؟ اس لئے کہ تمہیں خدا کا حکم ہے کہ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ جاؤ اور خطبہ سنو پھر اگر ایک ملا کا خطبہ نہ سننے کی وجہ سے تم گنہگا رسمجھے جاتے ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز کو تم نہ سنو اور پھر بھی تم گنہگار نہ سمجھے جاؤ۔پس فرمایا فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ۔جلدی کرو ذکر اللہ کی طرف اور دوڑو اس کے مامور کی آواز کی طرف۔اس جگہ ذکر اللہ کے الفاظ لا کر یہ بیان کر دیا کہ انبیاء پر ایمان لانا در حقیقت خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔اگر ہم محمد ﷺ کی رسالت کو الگ کر دیں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت کو الگ کر دیں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کو الگ کر دیں ، حضرت نوح علیہ السلام کی رسالت کو الگ کر دیں تو یہ کیا ہیں ؟ ہمارے جیسے انسان ہی ہیں۔ہم مان سکتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ لائق اور سمجھ دار ہونگے ، ہم مان سکتے ہیں کہ ان میں قابلیت کے ذاتی جو ہر ہم سے زیادہ ہوں گے مگر نبوت و رسالت کو الگ کر کے ان کی ہم پر حکومت نہیں رہ سکتی۔جیسے بڑے بڑے ادیب گزرے ہیں مشہور فلسفی اور صوفی ہوئے ہیں اسی طرح ان کی بھی حیثیت ہو گی اس سے زیادہ نہیں۔جو چیز انہیں حاکم اور ہمیں ان کا فرمانبردار بنا دیتی ہے وہ نبوت ورسالت ہی ہے۔اور نبوت و رسالت کا ماننا در اصل خدا تعالیٰ کو ماننا ہے۔حضرت نوح کو مانا انہیں مانتا نہیں بلکہ خدا کو ماننا ہے ، حضرت موسیٰ کو مانا نہیں مانا نہیں بلکہ خدا کو ماننا ہے،حضرت عیسی کو ماننا انہیں مانا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو ماننا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا نہیں مانا نہیں