خطبات محمود (جلد 16) — Page 178
خطبات محمود ۱۷۸ سال ۱۹۳۵ء وہ مامور جو دنیا کی ہدایت کے لئے آئے آخر لوگوں کو کیا کہے۔کیا موسیٰ علیہ السلام جب آئے تو انہوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں سے یہ کہا تھا کہ آپ لوگ بڑے ہادی و را ہنما ، پارسا ، خدا رسیدہ اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق رکھنے والے ہیں میں آپ کی اصلاح کرنے آیا ہوں اگر وہ ایسا کہتے تو کیا ہر شخص نہ کہتا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے ایک طرف تو کہتا ہے کہ ہم بڑے نیک اور پارسا ہیں اور دوسری طرف کہتا ہے کہ میں اصلاح کے لئے آیا ہوں آخر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہی کہنا پڑا کہ تم گمراہ ہو اور روحانی لحاظ سے اندھے ہو میں اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں وہ آنکھیں دوں جن سے تم خدا تعالیٰ کو دیکھو۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں کی بدکاری اور فسق و فجور کو دیکھ کر انہیں بدکار کہا، ان کی ایذاء رسانیوں کے رو سے انہیں ڈسنے والے سانپ قرار دیا لیکن اگر وہ یہ کہتے کہ تم لوگ یوں تو بڑے امن پسند ہو، نیک بھی ہو ، خدا تعالیٰ کی محبت بھی تمہارے دلوں میں ہے ، عدل وانصاف کو بھی تم نے دنیا میں قائم رکھا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو کیا ساری دنیا انہیں پاگل قرار نہ دیتی۔یوں بھی تو دنیا انبیاء کو مجنون کہا کرتی ہے مگر وہ اس قسم کی باتیں کہتے تو ہر ایک ان کی بات پر ہنستا اور کہتا کہ یہ عجیب آدمی ہے ایک طرف تو ہمیں بزرگ کہتے ہیں اور دوسری طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم تمہاری اصلاح کے لئے آئے ہیں۔آخر حضرت عیسی علیہ السلام کو یہی کہنا پڑا کہ تم سانپ ہو، سانپوں کے بچے ہو گے اور اسی انجیل میں جس میں یہ لکھا ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دیا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے مخالفوں کو کہا کہ تم حرامکار ہو، شیطان کی اولاد ہوتے اور ان میں سے ہر لفظ اپنے مقام پر صیح طور پر چسپاں تھا۔شیطان کی اولاد کے کیا معنی ہیں شیطان ہمیشہ نیکی سے روکتا ہے اور شیطان کی اولاد کے یہ معنی ہیں کہ تم شیطانی کام کر رہے ہوا اور لوگوں کو سچائی کے قبول کرنے سے روکتے ہو۔پھر کیا حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن واقع میں ایسے نہ تھے ؟ اسی طرح جب انہوں نے حرامکار کہا تو سچ کہا کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام تو اپنے ماننے والوں کو اطاعت کی تعلیم دیتے مگر مخالف یہ مشہور کرتے کہ یہ حکومت کا باغی ہے ، حضرت عیسی علیہ السلام ان کی جان بچانے کی فکر میں تھے اور وہ ان کو قتل کرانے کی فکر میں تھے پھر وہ حرامکاری نہیں کرتے تھے تو اور کیا کرتے تھے۔پھر وہ سانپ بھی تھے کیونکہ جس طرح سانپ بلا وجہ ڈستا ہے اسی طرح وہ بھی نیش زنی کرتے اور ایذا رسانی پر کمر بستہ رہتے۔اسی طرح جب رسول کریم ﷺ دنیا